سمجھوتا ایکسپریس کی برسی پر بھارت کی مذمت، ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، پاکستان

جمعرات 26 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امیر قطر کی دعوت پر دوحا کا دورہ کیا، جس میں دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

مزید پڑھیں: پاک بھارت جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ، یمن میں امن پر زور،ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ

بریفنگ کے مطابق وزیراعظم اور امیر قطر کے درمیان اعلیٰ سطح کی بات چیت ہوئی اور قطر نے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی قبول کر لی۔ دورے کے دوران افغانستان کے معاملات اور دفاع کے شعبے میں بھی تبادلہ خیال ہوا۔

ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس میں پاکستانی مؤقف پیش کرنے کے لیے سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں۔

ترجمان نے مغربی کنارے کو اسٹیٹ لینڈ میں تبدیل کرنے کے اسرائیلی اقدام کی مذمت اور واضح مخالفت بھی کی۔

ترجمان نے کہا کہ رواں ماہ سمجھوتا ایکسپریس کے حملے کی 19ویں برسی ہے، جس میں 70 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پاکستان نے بھارتی حکومت کی سنگ دلی اور 4 مجرموں کی رہائی کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور دہشتگردی کے دستاویزی ثبوت اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی پیش کیے جا چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک ایران گیس پائپ لائن پر کام ابھی شروع نہیں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان

ترجمان نے کہا کہ قطر کی جانب سے پاک افغان مصالحت کی کوششیں خوش آئند ہیں، تاہم افغانستان کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات افسوسناک ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس طرح کی دھمکیوں کے مقابلے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت، خصوصاً کشتواڑ ضلع میں 3 نوجوانوں کی شہادت کی بھی مذمت کی اور کہا کہ بھارت جعلی انکاؤنٹرز اور کسٹوڈیل کلنگز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اداروں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور بھارت کو اپنے اعمال کا جوابدہ بنائے گا۔

ترجمان نے برطانوی پارلیمنٹ میں عمران خان کے حقوق کی خلاف ورزی پر ہونے والی بات چیت پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی انسانی حقوق کے معاہدات کا حصہ ہے اور اس طرح کے بیانات ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں پاکستانی شہریوں اور سفیروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان آگاہ ہے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کی بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ او آئی سی ہنگامی اجلاس کا ایجنڈا فلسطین ہے اور اس میں افغانستان شامل نہیں۔ ترجمان نے آخر میں آپریشن سوفٹ ریٹارٹ کی سالگرہ کو یادگار ملٹری واقعہ قرار دیا۔

مزید پڑھیں: افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی، افغان ڈپٹی ہیڈ مشن دفتر خارجہ طلب، احتجاجی مراسلہ حوالے

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون سے آگاہ ہیں۔ پاکستان امن سے متعلق خطرات سے آگاہ اور ان کے لیے تیار ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل پر اندرون ملک (اسرائیل) ہونے والے احتجاج پر یہی کہوں گا کہ یہ اچھی بات ہے کہ وہاں کچھ باضمیر لوگ اب بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے پر دوحا اور استنبول جیسا اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ فی الحال نہیں ہو رہا، افغان سرزمین پر دہشتگردوں کو میسر آزادی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہم افغان حکومت سے وہاں موجود تمام پاکستانی سفارتکاروں اور شہریوں کو تحفظ کی فراہمی کا کہتے ہیں، کابل میں پاکستانی سفارت کاروں کو تحفظ کی فراہمی افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟