فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تمباکو کے شعبے میں ایک بڑے اسکینڈل کا سراغ لگایا ہے، جس میں مبینہ طور پر زائدالمیعاد اور اسمگل شدہ غیر ملکی برانڈز کے سگریٹ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون (ای پی زیڈ) کی سہولت کے تحت ری پیک کرکے مقامی مارکیٹ میں فروخت کیے جا رہے تھے۔
مزید پڑھیں: چند گھنٹے سگریٹ کے بغیر رہ کر یہ نشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے، مگر کیسے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اسکیم سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ایف بی آر کی انفورسمنٹ ٹیموں نے کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں قائم کمپنی میسرز پائنئیر ٹوبیکو اینڈ ٹریڈنگ کمپنی پر چھاپہ مار کر قریباً 45 لاکھ اسمگل شدہ غیر ملکی سگریٹ برآمد کیے۔
برآمد شدہ برانڈز میں فلپ مورس انٹرنیشنل کا مارلبورو اور پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے زیرِ ملکیت بینسن اینڈ ہیجز سمیت دیگر برانڈز شامل ہیں۔ بڑی مقدار میں سگریٹ فلٹرز، ایسیٹیٹ ٹو، سگریٹ پیپر اور زائدالمیعاد شیشہ فلیورز بھی قبضے میں لیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ملک بلیک مارکیٹ سے انتہائی کم قیمت پر خریدے گئے زائدالمیعاد سگریٹ پاکستان اسمگل کرکے ای پی زیڈ میں ری پیک کیے جاتے اور مبینہ طور پر ان کی اصل تیاری کی تاریخ اور تفصیلات چھپا کر مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا تھا۔ سگریٹ کی عمومی میعاد 3 سے 6 ماہ ہوتی ہے، جس کے بعد تمباکو خشک ہو کر کیمیائی تبدیلیوں کا شکار ہو جاتا ہے اور صحت کے لیے مزید مضر بن سکتا ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق ای پی زیڈ مراعات، جن کے تحت درآمد و برآمد پر کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، کا غلط استعمال کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے نہ صرف مقامی ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ قومی معیشت اور صحت عامہ کو بھی شدید خطرات لاحق ہوئے۔
مزید پڑھیں: آر ٹی او پشاور کی کارروائی، سب سے بڑی غیر قانونی سگریٹ فیکٹری سیل کردی
حکام کا کہنا ہے کہ زائدالمیعاد سگریٹ کی ری پیکنگ اور فروخت بیشتر ممالک میں غیر قانونی ہے، کیونکہ تمباکو مصنوعات پر لازمی وارننگز، ٹیکس اسٹیمپس اور مینوفیکچرر مارکنگ تبدیل کرنا جعلسازی اور صارفین کو دھوکہ دینے کے زمرے میں آتا ہے۔














