بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے برطانوی رکن پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے، جو ملک کی اینٹی کرپشن کمیشن کی درخواست پر دیا گیا۔
یہ حکم جمعرات کو ڈھاکہ میٹروپولیٹن سینئر اسپیشل جج محمد صبیر فیض نے سنایا، جس کی تصدیق عدالت کے حکام نے کی۔
اینٹی کرپشن کمیشن کے مطابق، شیخ ریحانہ کی بیٹی اور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی بھانجی ٹیولپ صدیق پر دارالحکومت ڈھاکہ کے مہنگے علاقے گلشن میں ایک اپارٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال کا الزام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور بھانجی کو کرپشن کیس میں قید کی سزا
کمیشن نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ٹیولپ صدیق نے سابق وزیراعظم سے اپنے تعلقات کا ناجائز فائدہ اٹھایا، راجُک دارالحکومت ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایک قانونی افسر پر اثر انداز ہوئی، ایسٹرن ہاؤسنگ لمیٹڈ کی ملکیت والے فلیٹ پر قبضہ حاصل کیا اور بغیر ادائیگی کے غیر قانونی فوائد کے ذریعے یہ جائیداد حاصل کی۔
اینٹی کرپشن کمیشن نے مزید دعویٰ کیا کہ ٹیولپ صدیق نے کیس درج ہونے سے پہلے بنگلہ دیش چھوڑ دیا اور ممکن ہے کہ تحقیقات سے متعلق شواہد کو ضائع کرنے کی کوشش کریں۔
اینٹی کرپشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ قانونی کارروائی کے لیے ٹیولپ صدیق کی موجودگی ضروری ہے، چونکہ وہ اس وقت بنگلہ دیش سے باہر ہیں، کمیشن نے ان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کی استدعا کی، جسے عدالت نے بعد ازاں منظور کر لیا۔
مزید پڑھیں: حسینہ واجد کی بھانجی و برطانیہ کی فنانشل سروسز کی وزیر ٹیولپ صدیق نے استعفیٰ کیوں دیا؟
ٹیولپ صدیق برطانیہ کی حکمران لیبر پارٹی کی موجودہ رکن پارلیمنٹ ہیں اور وہ پہلے بھی بنگلہ دیش میں قانونی تحقیقات کا سامنا کر چکی ہیں، جن میں اسی جائیداد سے متعلق کیس کے سلسلے میں اس ماہ کی شروعات میں ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔
حالیہ عدالتی حکم کے بعد ٹیولپ صدیق یا ان کے نمائندوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔












