سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن کے سامنے متاثرین کے بیانات، ریلیف پیکج کا اعلان

جمعرات 26 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے واقعے میں بچ جانے والے 2 شہریوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے۔

ان بیانات میں آگ لگنے کے دوران عمارت میں افراتفری، شدید دھویں اور انتظامیہ کی جانب سے بروقت اعلان نہ کیے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

شہری محمد جنید نے کمیشن کو بتایا کہ وہ رات سوا 10 بجے میزنائن فلور پر دکان بند کرکے باہر جانے لگے تھے کہ دکان کے مالک کو یاد آیا کہ موبائل فون اندر رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ کابینہ کا اجلاس: متاثرین گل پلازہ کو معاوضوں کی ادائیگی کے لیے 7 ارب روپے کی منظوری

اسی دوران دھواں نظر آیا، جس پر وہ کچھ دیر رکے رہے اور تقریباً سوا 11 بجے 2 لڑکوں کے ساتھ گل پلازا سے نکلے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ عمارت کے باتھ روم والی جانب سے باہر نکلے کیونکہ گہرے دھویں کی وجہ سے کوئی راستہ واضح نہیں تھا۔

باہر نکلنے کے بعد وہ بے ہوش ہوگئے اور انہیں ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے 300 عارضی دکانوں کا قیام

محمد جنید کے مطابق آگ لگنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی انتظامیہ یا ریسکیو اداروں کی جانب سے لوگوں کو نکالنے کی کوئی مؤثر کوشش کی گئی۔

دوسرے متاثرہ شہری علی حیدر نے اپنے بیان میں کہا کہ دکان بند کرتے وقت گراؤنڈ فلور پر دھواں نظر آیا، جس پر وہ عمارت کے عقبی حصے سے فوری طور پر باہر نکل گئے۔

بعد ازاں معلوم ہوا کہ میزنائن فلور پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ساڑھے 10 بجے وہ دوبارہ اپنی دکان پر آئے تو وہاں صرف دھواں تھا۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے سوال نامہ تیار کر لیا، لواحقین سے کیا سوال پوچھے گئے ہیں؟

آگ کے باعث دکان میں موجود دو سوٹ کیس پھٹ گئے، جس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئے۔

علی حیدر کے مطابق جب انہیں ہوش آیا تو وہ اسپتال میں تھے اور انہیں معلوم نہیں کہ کون انہیں وہاں لے کر گیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گل پلازہ میں ایک یا 2 دروازوں کے علاوہ تمام راستے بند تھے اور جب تک وہ بے ہوش رہے، آگ لگنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان

دوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف نے متاثرہ دکانداروں کے لیے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گل پلازہ کے 125 متاثرہ دکانداروں کو 5 لاکھ روپے فی کس کے حساب سے چیک جاری کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ آگ سے جلنے والے سامان کی تصدیق کا بیشتر کام مکمل ہوچکا ہے اور عید سے قبل متاثرین کو نقصان کا معاوضہ ادا کر دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: گل پلازہ کے متاثرین کو مفت پلاٹ دیں گے، گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا اعلان

ریحان حنیف کا کہنا تھا کہ گل پلازا کی تعمیر جلد مکمل کرکے دکانداروں کی بحالی کا عمل بھی مکمل کیا جائے گا، جبکہ سندھ حکومت متاثرین کی بحالی میں بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آج کی ادائیگیوں کو شامل کرکے مجموعی طور پر 800 افراد کو عبوری ریلیف کی رقم ادا کی جا چکی ہوگی۔

جوڈیشل کمیشن متاثرین کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں غیر مسلم تارکینِ وطن رمضان کیسے گزاریں؟

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟