25، 26 فروری 2026 کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دو روزہ سرکاری دورہ کیا جس کا بظاہر مقصد دفاعی، تجارتی، سیکیورٹی اور علاقائی مسائل پر تعاون بڑھانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کے بھارت میں اقلیتیں مسلسل احساسِ محرومی اور امتیازی سلوک کا شکار
اس موقعے پر انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب بھی کیا جو کہ ایک تاریخی لمحہ تھا کیونکہ یہ کسی بھارتی وزیر اعظم کا اسرائیل کی پارلیمنٹ میں پہلا خطاب تھا۔
اس خطاب میں جس طرح مودی نے اسرائیلی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے 7 اکتوبر حماس حملے کی مذمت کی وہ دونوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگ سوچ کا مظہر تھا۔
بھارتی وزیراعظم کی جانب سے ایک ایسے وقت میں اسرائیل کی حمایت جب دنیا کے اکثریتی ممالک بھارت کی مذمت کر رہے ہیں ایک عجیب اقدام دکھائی دیتی ہے۔
اسرائیل کے خلاف عالمی رائے عامہ
پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر، کویت، عمان، بحرین، لبنان، شام اور فلسطین کے وزرائے خارجہ—نیز اسلامی تعاون تنظیم , عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹریٹس نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے ان بیانات کی شدید مذمت کی جن میں انہوں نے یہ عندیہ دیا تھا کہ عرب ریاستوں سے تعلق رکھنے والے علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے، پر اسرائیلی کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرلز اور متعدد ممالک بشمول سعودی عرب، اردن، برازیل، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، مصر، لکسمبرگ، ناروے، فلسطین، پرتگال، قطر، سلووینیا، اسپین، سویڈن، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے بھی اسرائیل کے حالیہ فیصلوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ان فیصلوں کے تحت مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں غیر قانونی طور پر وسیع توسیع کی جا رہی ہے، فلسطینی اراضی کو نام نہاد اسرائیلی ’ریاستی زمین‘ قرار دیا جا رہا ہے، غیر قانونی بستیوں کی سرگرمیوں کو تیز کیا جا رہا ہے، اور اسرائیلی انتظامی کنٹرول کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: بھارت اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ طے پاگیا، معاہدے سے سپلائی چین مستحکم ہوگی، نریندر مودی
نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کو ’قدیم تہذیبوں کی شراکت‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ 1.4 ارب بھارتیوں کی طرف سے دوستی، احترام اور اسٹریٹجک تعاون کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ بھارت دہشتگردی کے خلاف اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے اورزیرو ٹالرینس کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔
دورے کی وجوہات
مودی دورے کے دوران مختلف نوعیت کے دوطرفہ اور علاقائی مسائل پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی دہشتگردی کا مقابلہ، تجارت میں اضافہ اور مزید تکنیکی تعاون ضروری ہیں۔انہوں نے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں پر زور دیا اور اسرائیل کے ساتھ اس میں تعاون کرنے کا عزم ظاہر کیا۔تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے آزاد تجارتی معاہدے فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر تبادلۂ خیال جاری ہے۔
افغانستان پر گفتگو
مودی اور نیتن یاہو نے افغانستان کے بارے میں بھی کچھ بیانات اور حمایت کا اظہار کیا جو علاقائی استحکام کے نقطۂ نظر سے اہم ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مودی نے افغانستان میں ہونے والے پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کی اور افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل مل کر افغانستان کو سیکیورٹی میں مدد فراہم کریں گے تاکہ افغان شہری محفوظ رہ سکیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک میڈیا رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ مودی نے افغانستان کی ترقی و بحالی کے لیے خصوصی امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا، جس پر بھارت اور اسرائیل دونوں نے تعاون کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: سابق بھارتی آرمی چیف کی یادداشتوں نے فوجی قیادت کی بے بسی اور مودی کی ’نیتاگری‘ آشکار کردی
یہ بات بھی رپورٹ کی گئی ہے کہ طالبان کے سربراہ کو مودی نے ’بھارتی دوست‘ قرار دیا، جس نے خطے میں تنازعات کی پیچیدگیوں کو اُجاگر کیا ہے، اگرچہ اس بیان پر رسمی پالیسی اعلامیہ سامنے نہیں آیا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ
مودی کے دورے سے قبل بھارتی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ دورے میں دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی اور علاقائی امن کے مسائل پر غور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت خطے میں امن و استحکام کی حمایت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کی حمایت جاری رکھے گا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مودی کو ’بھائی اور مضبوط عالمی شریک‘ قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے پر زور دیا۔
6 ملکی ممکنہ اتحاد
اس دورے کے پس منظر میں اسرائیلی قیادت نے ایک 6 ممالک کے اتحاد کا تصور پیش کیا ہے جسے وہ ہیگزاگون آف الائنس یعنی شش ملکی اتحاد کا نام دے رہے ہیں جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ اور قریبی علاقوں میں سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کو وسیع کرنا ہے۔
اگرچہ اس کا کوئی سرکاری معاہدہ سامنے نہیں آیا، اسرائیلی حکام نے اس تصور کو مستقبل کے ممکنہ سیکیورٹی فریم ورک کے طور پر پیش کیا ہے تاکہ علاقائی عدم استحکام کا مقابلہ کیا جا سکے۔
بھارت اسرائیل تعلقات خطّے پر کس طرح سے اثرانداز ہو سکتے ہیں؟
مودی نے اپنی تقریروں میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مودی نے دورہ اسرائیل کے دوران افغانستان پر بات کرتے ہوئے اس خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون کے ساتھ امدادی اقدامات کی طرف بھی اشارہ کیا۔
6 ملکی یا ہیگزاگون اتحاد جیسے تصور سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت اور اسرائیل علاقائی سیکیورٹی کو بطور مشترکہ ایجنڈا دیکھ رہے ہیں
یہ بھی پڑھیے: مودی نے امریکی دباؤ کے آگے جھک کر کسانوں کی محنت بیچ دی، راہول گاندھی
مودی کا دورہ اسرائیل صرف دوطرفہ معاہدوں تک محدود نہ رہ کر خطے کے سیکیورٹی منظرنامے، خاص طور پر افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ کے امن عمل پر بھی اثرانداز ہوا۔ دونوں ممالک نے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ مؤقف، افغانستان میں استحکام کی حمایت اور علاقائی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا، جس سے عالمی اور خطے کی سیاست میں نئی صف بندیوں کی سمت ظاہر ہوتی ہے۔














