لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

جمعہ 27 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صوبہ پنجاب میں ماہِ رمضان کے دوران حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے رمضان سہولت بازار عوام کو اشیائے خورونوش رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام سمجھے جا رہے ہیں۔ ان بازاروں میں آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیا کم قیمت پر دستیاب ہیں تاکہ مہنگائی کے دباؤ میں گھرے شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

انتظامیہ کے مطابق نگرانی کے لیے پیرا فورس اور دیگر متعلقہ ادارے متحرک ہیں، جو قیمتوں اور اشیا کے معیار کو یقینی بنا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کی روک تھام بھی ہے۔

شہریوں کی رائے مختلف ہے۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ ان بازاروں سے انہیں حقیقی معنوں میں ریلیف ملا ہے اور روزمرہ استعمال کی اشیا مناسب نرخوں پر دستیاب ہیں۔ تاہم بعض شہریوں نے شکایت کی ہے کہ بعض اوقات رش زیادہ ہونے یا اشیا کی محدود مقدار کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مجموعی طور پر رمضان سہولت بازاروں کو عوامی فلاح کا ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بہتر انتظامات اور مسلسل نگرانی سے اس اقدام کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی