پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ اسٹارلنک سمیت دیگر سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو پاکستان میں سروس شروع کرنے سے پہلے چار شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ چار سے پانچ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں نے پاکستان میں خدمات فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی کو سب سے پہلے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے منظوری حاصل کرنا ہوگی۔
اس کے بعد کمپنی کو پاکستان اسپیس ریگولیٹری بورڈ سے لائسنس حاصل کرنا ہوگا جبکہ وزارت داخلہ سے بھی منظوری لینا ضروری ہوگی۔
چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق یہ تینوں تقاضے مکمل ہونے کے بعد معاملہ مزید کارروائی کے لیے پی ٹی اے کو بھیجا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت سیٹلائٹ انٹرنیٹ سے متعلق کوئی کیس پی ٹی اے کے پاس زیر التوا نہیں، کیونکہ پاکستان اسپیس ریگولیٹری بورڈ اب بھی متعلقہ ضابطہ کار تیار کر رہا ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کو پاکستان میں آپریشنز کے لیے لائسنس جاری کرنے سے قبل ضابطہ کار کی تیاری مکمل ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے انکشاف کیاکہ اسٹارلنک نے فروری 2022 میں لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے سے رابطہ کیا تھا۔
اجلاس میں کمیٹی کو اسٹارلنک سمیت دیگر سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے پاکستان میں آغاز میں مسلسل تاخیر سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔














