بنگلہ دیش حکومت نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی صدارت کے لیے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو باضابطہ طور پر اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ تقریباً 4 دہائیوں بعد عالمی ادارے کے اس اہم منصب کے حصول کے لیے یہ بنگلہ دیش کی نئی کوشش ہے۔
وزارتِ خارجہ کے حکام کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ 2 جون کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ہوگی۔ قبرص کی جانب سے بھی اس عہدے کے لیے مقابلے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے انتخابات: اقوامِ متحدہ کا خواتین کی سلامتی اور مؤثر شرکت یقینی بنانے پر زور
میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے ابتدائی طور پر سابق مشیر خارجہ ایم ڈی توحید حسین کو نامزد کیا تھا، تاہم عہدہ چھوڑنے کے بعد ان کی جگہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو امیدوار بنایا گیا۔
بنگلہ دیش اس سے قبل بھی اس منصب کے لیے اپنی دلچسپی ظاہر کرچکا تھا۔ بعض حلقوں میں فلسطین کے حق میں دستبرداری کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں، تاہم فلسطین کی جانب سے امیدوار واپس لینے کے بعد ڈھاکا کی مہم کے لیے راستہ ہموار ہوگیا۔
اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس ستمبر میں شروع ہوگا، طے شدہ علاقائی روٹیشن نظام کے تحت اس سیشن کے صدر کا انتخاب ایشیا پیسیفک گروپ سے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اقوامِ متحدہ کے پیس بلڈنگ کمیشن کا وائس چیئر منتخب
بنگلہ دیش اس سے قبل 1986-87 میں جنرل اسمبلی کی صدارت سنبھال چکا ہے، جب اس وقت کے وزیر خارجہ ہمایوں رشید چودھری 41ویں اجلاس کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ملک ایک بار پھر یہ اہم عالمی منصب حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔














