بھارتی ریاست گجرات کے شہر سورت میں کریڈٹ کارڈ فراڈ سے دلبرداشتہ ہوکر ایک ہی خاندان کے 3 افراد نے اپنی جان لے لی، جبکہ 7 سالہ بچی معجزانہ طور پر زندہ بچ گئی۔ واقعے کے بعد 3 صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ سامنے آیا ہے جس میں مبینہ طور پر کریڈٹ کارڈ فراڈ اور مسلسل ذہنی دباؤ کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیڈی ڈاکٹر کی سیوریج نالے میں چھلانگ، وجہ کیا بنی؟
پولیس نے مرکزی ملزم ویبھو رنگٹا کو دہلی سے گرفتار کرلیا ہے۔ سورت پولیس کی ویسو ٹیم نے تکنیکی نگرانی کے ذریعے ملزم کا سراغ لگایا۔ تاہم دہلی کی مقامی عدالت نے ٹرانزٹ ریمانڈ دینے سے انکار کرتے ہوئے ملزم کو سورت کی متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
مالی دباؤ اور دھمکیوں کا الزام
تحقیقات کے مطابق متوفی بالمکند کھیتان، جو اصل میں بہار سے تعلق رکھتے تھے اور اسٹاک مارکیٹ کے پیشہ ور تھے، کے کریڈٹ کارڈز کے مبینہ غلط استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ 3 صفحات پر مشتمل نوٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے کریڈٹ کارڈز کے ذریعے مالی بدعنوانی کی۔ جب بالمکند کھیتان نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تو انہیں مبینہ طور پر گالم گلوچ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مسلسل ذہنی اور مالی دباؤ نے خاندان کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔
7 سالہ بچی واحد زندہ بچ جانے والی
خاندان کی 7 سالہ بیٹی پرتھوی اس واقعے میں زندہ بچ گئی اور زیر علاج ہے۔ اہلخانہ کے مطابق بچی نے بتایا کہ اسے کسی چیز کا محلول چمچ کے ذریعے پلایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: 2 مہینے میں 33 الیکشن اہلکاروں کی خودکشیاں اور اموات، وجہ کیا ہے؟
تفتیش کاروں کا شبہ ہے کہ پہلے بچوں کو زہریلا مادہ دیا گیا اور بعد ازاں میاں بیوی نے خود وہ مادہ استعمال کیا۔ ڈاکٹروں کی جانب سے مکمل صحت یابی کی تصدیق کے بعد بچی کا باضابطہ بیان قلمبند کیا جائے گا۔
زہریلا مادہ استعمال کرنے کی تصدیق
پولیس کے مطابق خاندان نے ایلومینیم فاسفائیڈ نامی نہایت زہریلا مادہ استعمال کیا۔ واقعے کے روز بالمکند کی اہلیہ پریانکا نے اپنے والد کو فون کر کے اطلاع دی کہ انہوں نے زہر کھا لیا ہے۔
فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم بالمکند کھیتان موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ پریانکا اور بڑی بیٹی بھاویا دوران علاج انتقال کرگئیں۔
مزید تفتیش جاری
سورت پولیس ملزم ویبھو رنگٹا سے تفصیلی تفتیش کررہی ہے۔ حکام اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس مبینہ ہراسانی میں دیگر قرض دہندگان یا ساتھی افراد بھی ملوث تھے یا نہیں۔ شواہد کے طور پر متاثرہ خاندان کے بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈ لین دین کا فرانزک آڈٹ کیا جارہا ہے۔














