تسبیح صرف عبادت نہیں، یہ انزائٹی کا قدیم اور مؤثر علاج بھی ہے

جمعہ 27 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج کے پرفتن دور میں جہاں انسان بے چینی اور انزائٹی (Anxiety) سے بچنے کے لیے اسٹریس بالز اور فجٹ اسپنرز کا سہارا لیتا ہے، وہیں اسلام نے 14 سو سال پہلے ’تسبیح‘ کی صورت میں ایک ایسا طاقتور ٹول عطا کیا جو نہ صرف میزان بھرتا ہے بلکہ انسانی اعصابی نظام (Nervous System) کو بھی پرسکون کرتا ہے۔

سائنسی اعتبار سے تسبیح کے دانوں پر الفاظ کی تکرار اور انگلیوں کی حرکت ہمارے دماغ کے ‘ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک’ کو سست کر دیتی ہے، جس سے منفی سوچوں کا تسلسل (Overthinking) ٹوٹ جاتا ہے۔ جب ہم سانس کی ترتیب کے ساتھ ’سبحان اللہ‘ اور ’الحمدللہ‘ جیسے کلمات کی تکرار کرتے ہیں، تو یہ عمل جسم میں تناؤ پیدا کرنے والے ہارمون ‘کورٹیسول’ کی سطح کو کم کر کے دل کو وہ اطمینان بخشتا ہے جس کا وعدہ قرآن نے ’اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ‘ میں کیا ہے۔

تسبیح میں گنتی کی حکمت دراصل انسانی دماغ کو ایک نظم (Structure) فراہم کرتی ہے، جو بکھرے ہوئے خیالات کو سمیٹ کر ذہنی خلفشار کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ گویا تسبیح صرف ذکرِ الٰہی نہیں، بلکہ وہ ’اسپرچوئل ریموٹ‘ ہے جو ذہن کے شور کو خاموش کر کے روح کو سکون کی فریکوئنسی پر سیٹ کر دیتا ہے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp