پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ علیمہ خان کو دیکھنا چاہیے کہ سینیئر رہنماؤں کی ایسے ٹرولنگ کر کہ وہ پارٹی کی خدمت کر رہی ہیں؟ عمران خان نے موروثی سیاست مسترد کی، وہ بہنوں اور بیگم کا سیاست میں کوئی رول نہیں دیکھنا چاہتے تھے، سیاست میں کوئی کسی کا ملازم نہیں ہوتا، یہ کہنا درست نہیں کہ ہم نے رکن اسمبلی بنایا، لوگوں نے بہت سی قربانیاں دی ہیں، ہم نے افغانوں کو 40 سال اپنے ساتھ رکھا، دل اور گھر کھول کر رکھ دیے، لیکن انہوں نے اچھا نہیں کیا، پاکستان نے جنگ میں افغانستان اور بھارت کو بھرپور جواب دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان اور فیملی کی عمران خان سے محبت اپنی جگہ، مگر پارٹی قیادت بھی عمران خان کے لیے ہر جگہ کھڑی ہے، بیرسٹر گوہر
وی ایکسکلیوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کے اندرونی اختلافات اور علیمہ خان کے حوالے سے لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر علیمہ خان واقعی پارٹی، عمران خان اور ملک کی بہتری چاہتی ہیں تو یکسوئی ضروری ہے۔ ہم نے عمران خان کو اپنا لیڈر مانا ہے اور وہی لیڈر ہیں۔ موروثی سیاست کو خود عمران خان نے مسترد کیا ہے، اس لیے چاہے کوئی قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، پارٹی میں قیادت کا معیار نظریہ ہونا چاہیے، رشتہ داری نہیں
لطیف کھوسہ کے مطابق عمران خان خود بھی اپنی بہنوں یا اہلیہ کے سیاسی کردار کے حق میں نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں:بانی کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے، لطیف کھوسہ
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم عمران خان کے نظریے کے ساتھ شامل ہوئے تھے اور نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ موروثی سیاست کے خلاف تھے اور ہیں۔ اگر علیمہ خان یا کوئی اور ذاتی جذبات میں کوئی بات کرتی ہیں تو وہ پارٹی لائن نہیں ہوتی۔ یہ ایک بڑی جماعت ہے، ہر شخص کی اپنی رائے ہو سکتی ہے، مگر حتمی مؤقف پارٹی کا ہوتا ہے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ کہنا کہ فلاں کو ایم این اے بنا دیا، سینیٹر بنا دیا، تو کیا دوسروں نے قربانیاں نہیں دیں؟ مجھ پر فائرنگ ہوئی، میرے بیٹے کو گرفتار کیا گیا، ایک اور بیٹے کو گولی ماری گئی، میرے گھر پر حملہ ہوا، مجھے 2 گھنٹے تک گھمایا گیا۔ میری بہو کو گرفتار کیا گیا۔ میں آج بھی دہشتگردی کے مقدمات کا سامنا کر رہا ہوں، آج بھی عدالت میں پیش ہو کر آیا ہوں۔ مجھے آج ایک وکیل نے کہا کہ 50 سال وکالت کرنے والے سینیئر وکیل کو جب بطور ملزم پکارا جائے تو ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ پارٹی سے سینیئر وکلا یا رہنماؤں کو نکال دینا یا انہیں کمپرومائزڈ قرار دینا دانشمندی نہیں، آپ بڑے بڑے وکیل نکال دیں گے تو پارٹی کی خدمت کریں گے یا اس میں تناؤ پیدا کریں گے؟ جذبات اپنی جگہ، مگر پاکستان کے معروضی حالات کو بھی دیکھنا چاہیے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم بہت کچھ نہیں کر پا رہے، مگر حالات کا ادراک ضروری ہے۔













