مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ علاقائی کشمکش کے بعد بنگلہ دیش نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے متعلق حالیہ صورتحال کے باعث فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی منسوخی نے ہزاروں بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز ہنگامی اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ خطے کی خراب سکیورٹی صورتحال کے باعث متعدد بین الاقوامی پروازیں معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی گئی ہیں، جس سے خلیجی اور دیگر مشرقِ وسطیٰ ممالک میں روزگار کے لیے جانے والے بنگلہ دیشی محنت کش براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں میڈیا دفاتر پر حملے، وزیر داخلہ نے سخت ہدایات جاری کردیں
حکام کے مطابق فضائی حدود کی عارضی بندش کے باعث بڑی تعداد میں کارکن مقررہ وقت پر روانہ نہ ہو سکے۔ حکومت نے متعلقہ ممالک سے رابطہ کر کے درخواست کی ہے کہ پروازوں کی بحالی کے بعد بنگلہ دیشی شہریوں کے داخلے میں سہولت فراہم کی جائے۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ کئی ممالک کی جانب سے مثبت یقین دہانیاں موصول ہوئی ہیں۔
ڈھاکہ میں حکام نے بڑے ہوائی اڈوں پر متاثرہ مسافروں کے لیے معاونت کا انتظام کیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے تاکہ بنگلہ دیشی شہریوں کی محفوظ اور منظم منتقلی جلد از جلد یقینی بنائی جا سکے۔
حکومت نے تہران میں اپنے سفارتی مشن کی سیکیورٹی کا بھی جائزہ لیا ہے، جبکہ ایران میں مقیم بنگلہ دیشی سفارتکاروں، عملے اور طلبہ کی حفاظت کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ ہنگامی اجلاس کے دوران تہران میں تعینات بنگلہ دیشی مشن کے سربراہ سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے زمینی صورتحال اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

اعلیٰ سطح کے اس اجلاس میں وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان، وزیر مملکت برائے خارجہ شما عبید اسلام، وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر اور خارجہ سیکریٹری نے شرکت کی۔
بنگلہ دیش نے اپنی روایتی خارجہ پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل کی معطلی اور علاقائی تصادم میں اضافہ انتہائی تشویشناک ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ناگزیر ہے اور پائیدار امن صرف بات چیت، باہمی احترام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: عوامی لیگ بتدریج سیاسی واپسی کے اشارے دینے لگی، مقامی دفاتر دوبارہ فعال
ڈھاکہ نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کریں اور خطے میں استحکام کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کریں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنوبی ایشیائی ممالک کے لاکھوں شہری مقیم ہیں جن میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے بڑی تعداد میں تارکینِ وطن شامل ہیں، اس لیے طویل عدم استحکام کے ممکنہ معاشی اثرات پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔














