بلوچستان میں معدنیات کے شعبے سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹنگ پر بعض حلقوں نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ رپورٹنگ میں حقائق کو مخصوص زاویے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی معدنیات، کان کنی اور اس سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں میں مقامی افراد کا کردار نظر انداز کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سیندک منصوبے میں بلوچستان کو کتنی رائلٹی ملی؟
اعتراض کرنے والے حلقوں کے مطابق بلوچستان سے نکلنے والی معدنیات، جن میں کوئلہ، ماربل اور گرینائیٹ شامل ہیں، بڑی حد تک مقامی افراد کی نگرانی اور شراکت سے چل رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کانوں کی لیز مقامی لوگوں کے پاس ہے، جبکہ کان کنی سے لے کر مزدوری، ٹھیکوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بھی مقامی بلوچ اور پشتون افراد وابستہ ہیں۔
ناقدین کے مطابق بلوچستان کی کئی سیاسی شخصیات بھی کان کنی کے شعبے سے منسلک رہی ہیں اور اس شعبے میں ان کے کاروباری مفادات موجود ہیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض افراد کے پاس بلوچستان میں کانوں کی لیز، جبکہ صنعتی یونٹس حب اور تجارتی مراکز کراچی میں قائم ہیں۔

بی بی سی کی جانب سے بلوچستان میں معدنیات سے متعلق صورتحال کو اس انداز میں پیش کرنا کہ عسکریت پسند تنظیموں کی کارروائیوں کے پیچھے کوئی سیاسی یا عوامی محرومی کا جواز موجود ہے، حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اعتراض کرنے والے حلقوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان میں دہشتگرد تنظیمیں مقامی صنعتوں اور کاروباری افراد سے مبینہ طور پر بھتہ وصول کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور ترقیاتی سرگرمیوں کو متاثر کر کے اپنے بیانیے کو تقویت دینا چاہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور سعودی عرب کا معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق
دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بیانیے کی جنگ بھی جاری ہے، جہاں بعض عناصر کے مطابق بیرونی قوتیں پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور ان کے حامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنے مؤقف کو تقویت دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔














