کیا آپ بھی سب کو خوش رکھنے کی بیماری میں مبتلا ہیں؟ اپنی حدود طے کریں اور ’نہ‘ کہنا سیکھیں

اتوار 1 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اکثر ہم ’اچھا انسان‘ بننے کی تگ و دو میں خود کو تھکا دیتے ہیں؛ ہر فرمائش پر ’ہاں‘ کہنا، ہر اضافی کام کو سر آنکھوں پر رکھنا اور دوسروں کا جذباتی بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لینا ہمیں اندرونی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یاد رکھیے، اپنی حدود (Boundaries) طے کرنے کا مطلب دوسروں سے دوری اختیار کرنا نہیں بلکہ اپنی زندگی میں وضاحت (Clarity) لانا ہے۔ اگر آپ کا کوئی دوست مسلسل اپنی شکایات سے آپ کو ذہنی طور پر تھکا رہا ہے، تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے نرمی سے یہ کہنا کہ ’میں آپ کی بات سننا چاہتا ہوں مگر ابھی میں خود ذہنی طور پر اس قابل نہیں‘، ایک صحت مند رویہ ہے۔

اسی طرح دفتر کے اوقات کے بعد پیغامات کا جواب نہ دے کر آپ اپنا ’ورک لائف بیلنس‘ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اسلام بھی ہمیں اعتدال سکھاتا ہے، نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ ’تمہارے جسم کا تم پر حق ہے‘، لہٰذا اپنی حدود کو نظر انداز کرنا روحانیت نہیں بلکہ اپنے اوپر ظلم ہے۔ نفسیاتی طور پر بھی دوسروں کو خوش رکھنے کی مسلسل کوشش (People-pleasing) بے چینی اور ذہنی تھکن کا باعث بنتی ہے۔ کبھی کبھی ’نہیں‘ کہنا رشتہ توڑتا نہیں، بلکہ آپ کو اس خاموش غصے سے بچاتا ہے جو ہر بات پر زبردستی ’ہاں‘ کہنے سے پیدا ہوتا ہے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp