کوئٹہ ٹریفک پولیس نے شہریوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور سڑکوں پر درپیش روزمرہ مسائل کو کم کرنے کے لیے ایک منفرد اور عوام دوست اقدام شروع کیا ہے۔ اس نئے ماڈل کے تحت اب ٹریفک پولیس کا کردار صرف چالان کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ شہر میں خراب ہونے والی گاڑیوں کی مرمت اور فوری امداد کے لیے خصوصی ہیلپ گاڑیاں بھی تعینات کر دی گئی ہیں، جو ایک کال پر موقع پر پہنچ کر شہریوں کی مدد کرتی ہیں۔
نئے ماڈل کی افادیت
اس اقدام کا بنیادی مقصد ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانا اور شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ اکثر سڑکوں پر گاڑی خراب ہونے سے ٹریفک جام ہو جاتا ہے، جس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ شہری ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ خصوصی امدادی گاڑیوں کی بدولت اب ایسی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن ہو گئی ہے۔ اہلکار موقع پر پہنچ کر معمولی خرابی کو ٹھیک کرتے ہیں یا گاڑی کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
شہریوں کے تجربات
متعدد شہریوں نے اس اقدام کو سراہا ہے۔ ان کے مطابق، پہلے ٹریفک پولیس کا تاثر صرف جرمانے کرنے والے ادارے کا تھا، لیکن اب وہ ایک مددگار اور خدمت گزار فورس کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ اچانک گاڑی خراب ہونے کی صورت میں فوری مدد ملنا نہایت اطمینان بخش تجربہ ہے، خصوصاً خواتین، بزرگوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کے لیے یہ سہولت بہت کارآمد ثابت ہو رہی ہے۔
حکمتِ عملی اور وژن
ٹریفک پولیس کی حکمتِ عملی میں کمیونٹی انگیجمنٹ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ اہلکاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شہریوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور مسئلہ حل کرنے کو ترجیح دیں۔ اس اقدام کے ذریعے قانون نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمت کے تصور کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، جو جدید پولیسنگ کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔
شہری زندگی پر مثبت اثرات
اس عوام دوست پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف ٹریفک کے مسائل میں کمی آئی ہے بلکہ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سڑکوں پر روانی بہتر ہونے سے کاروباری سرگرمیوں پر بھی مثبت اثر پڑا ہے۔ اگر یہ ماڈل تسلسل کے ساتھ جاری رہا تو یہ ملک کے دیگر شہروں کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔
یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے خدمت اور سہولت کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیتے ہیں تو شہری زندگی میں نمایاں بہتری ممکن ہو جاتی ہے۔













