چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ مملکت سعودی عرب کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بعض ناعاقبت اندیش اور لاعلم یوٹیوبرز اور نام نہاد صحافیوں کی جانب سے چلائی جانے والی مہم کا مقصد مسلم اُمہ کے اتحاد کو نقصان پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ابتدا ہی سے ایران پر حملہ روکنے کی کوشش کی۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر دفاع خالد بن سلمان نے متعدد امریکی حکام اور عالمِ اسلام کے قائدین سے مسلسل رابطے کیے اور سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، تاہم بعد ازاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ کر دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس ایران پر حملے کے بعد سب سے پہلے جس ملک نے اس کی مذمت کی، وہ سعودی عرب تھا۔
موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس مرتبہ پہلا میزائل سعودی دارالحکومت ریاض اور منطقۂ شرقیہ کی جانب داغا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ قوتیں مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا چاہتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایرانی صدر بھی اس سے قبل ولی عہد محمد بن سلمان کو مسلم اُمہ کا اہم رہنما قرار دے چکے ہیں جو اتحاد اور یکجہتی کے خواہاں ہیں۔
اختتام پر زور دیا گیا کہ پاکستان، ترکیہ سمیت دیگر اسلامی ممالک کو موجودہ حالات میں اتحاد و یکجہتی کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور اُن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنانا چاہیے جو اُمہ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔














