علاقائی کشیدگی کے پیش نظر سائبر الرٹ جاری، فوری سیکیورٹی اقدامات ناگزیر قرار

پیر 2 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے تناظر میں ملک بھر کے سرکاری و نجی اداروں کے لیے ہائی الرٹ ایڈوائزری جاری کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار، ایرانی قوم سے اظہار یکجہتی

ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ قومی سلامتی اور عوامی اعتماد کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر سائبر سکیورٹی اقدامات ناگزیر ہیں۔

قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے مطابق موجودہ علاقائی عدم استحکام سے ریاستی سرپرستی یافتہ عناصر، ہیکٹیوسٹس اور سائبر جرائم پیشہ گروہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

دفاع، مالیات، توانائی، ٹرانسپورٹ، ٹیلی کمیونیکیشن اور حکومتی انفراسٹرکچر سمیت اہم شعبے ممکنہ طور پر نشانے پر آ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: ایرانی حملوں کے بعد روسی صدر پیوٹن کا امیرِ قطر سے اظہارِ یکجہتی

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ خطرات میں اسپیئر فشنگ، ڈیپ فیک، ایڈوانسڈ پرسسٹنٹ تھریٹس، ڈی ڈاس حملے اور اسپائی ویئر شامل ہیں۔

ان حملوں کا مقصد حساس معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنا، جاسوسی کرنا، سروسز میں خلل ڈالنا اور غلط معلومات پھیلا کر عوامی بے چینی پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سائبر حملوں کے نتیجے میں اکاؤنٹس ٹیک اوور کیے جا سکتے ہیں، سرکاری پورٹلز اور میڈیا اکاؤنٹس ہائی جیک کر کے جعلی خبریں پھیلائی جا سکتی ہیں جبکہ توانائی اور مواصلاتی نظام پر حملوں سے سروس کی معطلی کا خطرہ بھی موجود ہے۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے اہم شخصیات کی نقالی کر کے کشیدگی کو ہوا دی جا سکتی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر جعلی صفحات کے ذریعے انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان ایران کی موجودہ صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے، اسحاق ڈار

قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے تمام اداروں کو فوری سکیورٹی آڈٹ کرنے اور دفاعی اقدامات بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ اداروں کو ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن اور پاس کیز لازمی قرار دینے، ایس ایم ایس پر مبنی تصدیق ختم کرنے اور زیرو ٹرسٹ سکیورٹی ماڈل اپنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اہم سسٹمز کی بروقت پیچنگ، ایپلیکیشن وائٹ لسٹنگ اور موبائل تھریٹ ڈیفنس کے نفاذ پر بھی زور دیا گیا ہے۔

ایڈوائزری میں وی پی این، فائر والز اور آپریٹنگ سسٹمز کو فوری اپ ڈیٹ کرنے، اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن استعمال کرنے اور حساس ڈیٹا کے لیے غیر محفوظ یا ذاتی ایپس سے گریز کی ہدایت دی گئی ہے۔

مشکوک بیرونی لاگ اِنز کی نگرانی، کمانڈ اینڈ کنٹرول ٹریفک کی نشاندہی کے لیے ڈیپ پیکٹ انسپیکشن کے استعمال اور غیر مصدقہ ایپس ڈاؤن لوڈ نہ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: دہائیوں کی شراکت داری نظر انداز، نازک مرحلے پر بھارت کا ایران کے ساتھ دھوکا

مزید برآں حساس سرکاری نظام تک غیر ملکی آئی پی رینجز کی رسائی محدود کرنے، تیسرے فریق وینڈرز کی سیکیورٹی جانچنے، سخت رسائی کنٹرول نافذ کرنے اور بیک اپ سسٹمز کی بحالی کی صلاحیت کی باقاعدہ جانچ کی ہدایت کی گئی ہے۔

قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے واضح کیا کہ سائبر چوکسی نہ صرف تکنیکی ضرورت ہے بلکہ قومی استحکام کے تحفظ کے لیے ایک ناگزیر حکمتِ عملی ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب سمیت کوئی اسلامی ملک ایران پرحملوں میں ملوث نہیں، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

اداروں اور عوام دونوں کو چاہیے کہ وہ سائبر احتیاط اختیار کریں اور غلط معلومات یا مشکوک آن لائن سرگرمیوں سے ہوشیار رہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مشرق وسطیٰ کشیدگی: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مزید 3 جہازوں پر ڈرون سے حملہ

دنیا اتنی بری نہیں جتنی ہماری منفی سوچ اسے بنا دیتی ہے

نادرا کا قومی شناختی نظام میں اصلاحات کا بڑا اقدام کیا ہے؟

تیل کی طرح اب پانی بھی جنگ میں اہم ہدف

ایران، امریکا، اسرائیل جنگ، پاکستان نے بھی آپریشن شروع کردیا، عید سے پہلے عمران خان کی رہائی؟

ویڈیو

دنیا اتنی بری نہیں جتنی ہماری منفی سوچ اسے بنا دیتی ہے

ایران، امریکا، اسرائیل جنگ، پاکستان نے بھی آپریشن شروع کردیا، عید سے پہلے عمران خان کی رہائی؟

5جی اسپیکٹرم کی نیلامی: کیا انٹرنیٹ کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟

کالم / تجزیہ

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے