وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں تمام گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر ای ٹیگ لگانے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے, یہ اقدام مائیکرو سیکیورٹی آئرن شیلڈ پلان کا اہم حصہ ہے جسے صرف 7 دن میں مکمل کر لیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اب پنجاب میں ہر گاڑی پر ای ٹیگ لگانا لازمی ہو گا، نئی گاڑیوں کے لیے رجسٹریشن کے وقت ہی یہ ٹیگ لگایا جائے گا جبکہ پرانی گاڑیوں کے مالکان کے لیے الگ مہم چلائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ، کب سے آغاز ہوگا؟
ابھی تک صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے کوئی مخصوص تاریخ یا مراکز کا اعلان نہیں کیا، تاہم وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو 7 روز کے اندر مکمل منصوبہ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
ای ٹیگ لگانے کی لاگت کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا، ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر فیس مقرر کی گئی تو یہ ڈیڑھ سے 3 ہزار روپے کے درمیان ہو سکتی ہے، حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ جلد ہی مکمل تفصیلات جاری کر دی جائیں گی۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز نے گزشتہ روز امن و امان کے حوالے سے ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کی نوعیت بدل گئی ہے، لہذا ڈیجیٹل دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنا ہوگی۔
’پنجاب میں جرائم پیشہ گروہوں کے لیے کوئی محفوظ راستہ نہیں چھوڑا جائے گا۔‘
مزید پڑھیں:ایم ٹیگ سروس یا آزمائش، موٹرسائیکل سوار پریشان
یہ ای ٹیگ گاڑیوں کی ریئل ٹائم ٹریکنگ کے لیے استعمال ہوگا، اس سے چوری شدہ گاڑیوں کی فوری ریکوری ممکن ہو سکے گی، جرائم پیشہ گروہوں اور اسمگلنگ پر کنٹرول ہوگا اور نئے قائم ہونے والے سائبر کرائم انویسٹی گیشن یونٹ کو بھی یہ ڈیٹا دستیاب ہوگا۔
پاکستان اور افغانستان تنازع کے بعد پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال میں یہ اقدام صوبے کو مزید محفوظ بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

عام گاڑی مالکان پر اس فیصلے کا براہ راست اثر پڑے گا، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان سمیت پورے پنجاب کے لاکھوں شہریوں کو اب اپنی گاڑیوں پر یہ ٹیگ لگانا ہوگا۔
سیکیورٹی ماہرین اس اقدام کو وقت کی ضرورت قرار دے رہے ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ ای ٹیگنگ سے گاڑی چوری کی شرح میں 40 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ایم ٹیگ چوری ہوجائے تو شہری کیا کریں؟ اہم ہدایات جاری
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اچھا قدم ہے لیکن ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کو بھی مضبوط بنایا جائے تاکہ عام شہری کی پرائیویسی متاثر نہ ہو۔
اس فیصلے کو پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیجیٹل سیکیورٹی قدم سے تعبیر کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایک ہفتے میں مائیکرو سیکیورٹی آئرن شیلڈ پلان مکمل ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ خود اس کی مانیٹرنگ کریں گی اور صوبائی اسمبلی میں بھی اس پر بحث ہوگی۔














