سعودی عرب کے جازان ریجن کی مختلف منڈیوں میں آم کی ابتدائی فصل کی آمد شروع ہوگئی ہے، جس کے لیے یہ خطہ خصوصی شہرت رکھتا ہے۔ کسانوں نے اپنی تازہ پیداوار فروخت کے لیے پیش کردی ہے اور مقامی زرعی منڈیوں میں غیر معمولی چہل پہل دیکھنے میں آرہی ہے، جو علاقے کے زرعی شعبے کی سرگرمی اور توانائی کی عکاسی کرتی ہے۔
حکام کے مطابق جازان ریجن میں تقریباً 10 لاکھ آم کے درخت موجود ہیں جبکہ سالانہ پیداوار کا تخمینہ 65 ہزار ٹن ہے، جو دیگر کاشت کی جانے والی فصلوں سے زیادہ ہے۔ یہ وافر مقامی پیداوار زرعی سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب میں حائل کے انار فارم سے ایکو ٹورازم کا فروغ، 70 ہزار سیاحوں کی آمد
30 سے 45 کلوگرام وزن پر مشتمل آم کے ایک کارٹن کی قیمت معیار اور قسم کے لحاظ سے 50 سے 200 سعودی ریال کے درمیان ہے۔ شہریوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد آم کے دلکش رنگوں اور منفرد ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے منڈیوں کا رخ کررہی ہے۔
آم کے کاشتکاروں کو توقع ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ آئندہ ہفتوں میں مزید آم پک کر تیار ہوں گے، جس سے مختلف اقسام کی فراہمی ممکن ہوگی اور خریداروں کو اپنی پسند کے مطابق انتخاب کا بہتر موقع ملے گا۔ اس سے زرعی اور سیاحتی خریداری کے تجربے کو بھی فروغ ملے گا۔
یہ بھی پڑھیے: بالائی دیر کے جاپانی پھل کی خاص بات کیا ہے؟
آم رمضان المبارک میں دسترخوان کی نمایاں ترین پھلوں میں شمار ہوتا ہے، جو افطار اور سحری کے اوقات میں نہ صرف خوش رنگی بلکہ لذیذ ذائقہ بھی فراہم کرتا ہے۔ یوں یہ پھل رمضان کے دوران مقامی ثقافت، زرعی خوشحالی اور روزمرہ زندگی کے گہرے تعلق کی علامت کے طور پر نمایاں مقام رکھتا ہے۔













