چیئرمین پاکستان علما کونسل اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے سربراہ علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرحد پر جاری جنگ کو جہاد سمجھتے ہیں اور پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں خواتین اور بچوں کو کوڑے مارے جانے جیسی سزائیں، اقوام متحدہ کے ماہرین نے سوال اٹھا دیا
کوئٹہ میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے اور ملکی سلامتی و تحفظ ہر چیز سے مقدم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افواج فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہیں جبکہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کا مقصد معاشرے میں مساوات اور بھائی چارے کا فروغ ہے۔
بارڈر پر افغانستان کے ساتھ جنگ کو جہاد سمجھتے ہیں۔ پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ علامہ طاہر اشرفی pic.twitter.com/Djq53cgY27
— WE News (@WENewsPk) March 4, 2026
علامہ طاہر اشرفی نے زور دیا کہ دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر وقت کوشاں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اپنے 3 روزہ دورۂ کوئٹہ کے دوران انہیں حکام کی جانب سے سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور وزیراعلیٰ، گورنر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو دہشتگردی سے متعلق شواہد فراہم کیے جا چکے ہیں اور سرحدی علاقوں میں ہونے والی کارروائیاں ملک کے دفاع کے لیے ناگزیر ہیں۔
مزید پڑھیں: افغانستان کے ساتھ کشیدگی میں پاکستان کی بڑی جیت، آگے کیا ہوگا؟
اس موقع پر مولانا عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کیے جانے والے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور حقیقی مسائل پر سنجیدہ گفتگو ہوئی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد 2 روزہ غیر معمولی سیمینار منعقد کیا جائے گا تاکہ مکالمے کے ذریعے قیامِ امن کو فروغ دیا جا سکے۔
علامہ ہاشم موسوی نے بھی امن کے قیام کے لیے مکالمے کو بہترین اور مؤثر راستہ قرار دیا۔














