امریکا مشرق وسطیٰ میں بحران کیسے پیدا کرتا آیا ہے؟

بدھ 4 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں میں ایران کے سینیئر رہنماؤں علی خامنہ‌ای، علی شمخانی اور محمد پاکپور سمیت متعدد اعلیٰ شخصیات شہید ہوئے ہیں جس سے خطے میں ایک تاریخی نوعیت کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ امریکا نے پہلے کبھی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ رہنما کو اس طرح قتل کیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا پانچواں روز: ایران پر حملوں میں شہادتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز، تہران کا مذاکرات سے انکار

رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ اس کشیدگی کی شدت بے مثال ہے لیکن اس کے پیچھے کی حکمت عملی پرانی ہے۔

دہائیوں سے امریکی حکومتیں مشرق وسطیٰ کے سیاسی اور فوجی معاملات میں چھپ کر یا کھلے طور پر مداخلت کرتی رہی ہیں، حکومتیں تبدیل کیں، حریفوں کو ہٹایا اور خطے میں طاقت کا توازن دوبارہ ترتیب دیا۔ موجودہ بحران بھی اسی سلسلے کو دہرا رہا ہے۔

ایران میں جمہوریت کو دبانا

امریکی مفادات نے سنہ 1950 کی دہائی میں مشرق وسطیٰ کو اپنے کنٹرول میں لانے کا آغاز کیا۔ ایران کے وزیراعظم محمد مصدق نے سنہ 1951 میں تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لینے اور شاہ کی طاقت محدود کرنے کی کوشش کی۔

امریکا نے اس عمل کو اپنے حق میں موڑ دیا، اور سی آئی اے نے برطانوی خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر فوجی حمایت اور سیاسی بے چینی پیدا کر کے سنہ 1953 میں مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

یہ امریکی حکمت عملی توانائی کے وسائل پر کنٹرول اور خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کا آغاز تھی، جو بعد میں ایران، عراق، لیبیا اور شام میں دہائیوں تک دہرائی گئی۔

سویز بحران 1956

ایران میں امریکی مداخلت نے یورپی سامراجی اثرات کو کمزور کیا اور 1956 میں مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے سویز کینال کو قومی بنانے کے اقدام کے دوران امریکی حکمت عملی واضح ہوئی۔

مزید پڑھیے: اسحاق ڈار کی ایرانی سفارتخانے آمد، آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیتی کتاب میں تاثرات درج کیے

امریکا نے برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کی کارروائی کو روک کر خود خطے میں اثر و رسوخ قائم کیا، اور عالمی توازن میں نئی پوزیشن حاصل کی۔

عراق پر حملہ 2003

ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکا نے عراق پر حملہ کیا، صدر صدام حسین کو ہٹایا اور ملک کی ریاستی ساخت کو تباہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں عراق میں طویل عدم استحکام پیدا ہوا، فرقہ وارانہ جنگیں پھوٹیں اور عسکریت پسند تنظیموں نے مضبوطی حاصل کی۔ تاہم یہ سب امریکا کے لیے خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع بھی تھا۔

لیبیا میں بحران

سنہ 1980 کی دہائی میں امریکا نے لیبیا کے رہنما معمر قذافی کو اپنا ہدف بنایا۔ سنہ 2011 میں عرب بہار کے دوران نیٹو کی مداخلت نے قذافی کی حکومت ختم کر دی لیکن ملک میں استحکام نہ آیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان سعودی عرب پر حملے روکنے کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کررہا ہے، رانا ثنااللہ

اس کے بعد امریکی کمپنیوں نے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کر کے خطے میں دیرپا فوائد حاصل کیے۔

شام میں تنازع

شام کے بحران میں صدر بشار الاسد نے احتجاج کو طاقت سے دبایا جبکہ امریکا نے خفیہ طور پر باغیوں کی حمایت کی۔

اس تنازعے نے داعش اور دیگر گروہوں کو جنم دیا اور خطے میں طاقت کا توازن بدل گیا۔

امریکی مداخلت نے سیاسی نتائج کو اپنی ترجیحات کے مطابق موڑ دیا جبکہ مقامی اتحادی اپنی اہمیت کھو بیٹھے۔

یہ بھی پڑھیے: اقوام متحدہ آزادانہ تحقیقاتی ٹیم کی ایران پر حملوں کی شدید مذمت

ماہرین کے مطابق 20ویں صدی میں امریکی مداخلت کا مقصد حکومتیں بدلنا اور توانائی کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا تھا جبکہ 21ویں صدی میں امریکا نے زیادہ تر توانائی کی سپلائی چینز میں درمیانی کردار ادا کر کے مارکیٹ اور وسائل پر اثر ڈالا اور اپنے فائدے کے لیے رسد اور منافع کی نگرانی کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp