پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو خریداری کا رجحان دوبارہ دیکھنے میں آیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروباری دن کے دوران تقریباً 3 ہزار 900 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوپہر 12 بج کر 15 منٹ تک انڈیکس 159,632.52 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 3,855.31 پوائنٹس یعنی 2.47 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان غالب، انڈیکس میں 4,300 پوائنٹس کا اضافہ
مارکیٹ میں نمایاں خریداری آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری سیکٹر میں دیکھی گئی۔
اٹک ریفائنری، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے انڈیکس پر اثر انداز ہونے والے بڑے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Pakistan's KSE-100 index surged 3,815.48 points, or 2.33%, to reach 159,604.06 by late morning, showing lower volatility and healthy trading despite recent geopolitical tensions. #PakistanStockExchange #KSE100 https://t.co/vFjsSu7SLJ
— Investify Pakistan (@investifypk) March 5, 2026
گزشتہ روز بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ سے بھرپور سیشن دیکھنے میں آیا تھا، محتاط سرمایہ کارانہ رویے، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور دن بھر کے بڑے اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کار دفاعی حکمت عملی اپنائے رہے۔
بدھ کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,354.88 پوائنٹس یعنی 0.86 فیصد کمی کے ساتھ 155,777.21 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کے باعث عارضی طور پر کیوں معطل کی گئی؟
عالمی منڈیوں میں بھی جمعرات کو بہتری دیکھی گئی اور ایشیائی شیئرز میں اضافہ ہوا، امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں کمی کے باعث سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی صلاحیت میں عارضی بحالی کے آثار سامنے آئے، جسے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جنگ نے متاثر کیا تھا۔
جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس نے گزشتہ سیشن کے بڑے نقصانات کے بعد نمایاں بحالی دکھائی، جبکہ وال اسٹریٹ میں تیزی کے بعد یہ امید پیدا ہوئی کہ امریکا اور ایران کشیدگی کم کرنے کے لیے راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔

اسی دوران عالمی منڈیوں میں تیل اور سونے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، چین نے بھی اپنی نئی معاشی حکمت عملی میں اقتصادی ترقی کا ہدف گزشتہ سال کے مقابلے میں قدرے کم مقرر کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی مہم کی حمایت کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس جنگ کے جلد خاتمے کے امکانات کم ہیں۔ اس کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور توانائی کی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد کاروباری ہفتے کا مثبت اختتام، 990 پوائنٹس کا اضافہ
تاہم یورپ اور امریکا کی ایکویٹی مارکیٹس کو اس بیان سے کچھ سہارا ملا جس میں ٹرمپ نے جہاز رانی کے تحفظ کا وعدہ کیا، جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی انٹیلیجنس نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں سی آئی اے سے کشیدگی ختم کرنے کے ممکنہ راستے پر رابطہ بھی کیا تھا۔













