پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پی ٹی اے نے واٹس ایپ اکاؤنٹس کی ہیکنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوامی آگاہی مہم کا آغاز کر دیا ہے اور اس سلسلے میں ایک معلوماتی ویڈیو جاری کی ہے۔
پی ٹی اے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ویڈیو میں شہریوں کو بتایا گیا ہے کہ اگر ان کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہوجائے تو فوری طور پر کیا اقدامات کیے جائیں اور آئندہ ایسے واقعات سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ ہیکنگ اور سائبر فراڈ سے بچاؤ، پی ٹی اے کی صارفین کو ہشیار رہنے کی ہدایت
اتھارٹی کے مطابق پاکستان میں واٹس ایپ ہیکنگ کے واقعات میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث عام شہریوں کے ساتھ ساتھ بزرگ افراد، خواتین اور کاروباری طبقہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ پی ٹی اے نے خبردار کیا ہے کہ ہیکرز عموماً جعلی پیغامات کے ذریعے صارفین سے 6 ہندسوں کا تصدیقی کوڈ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر اکاؤنٹ کی تصدیق یا کسی اور بہانے سے لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ واٹس ایپ کی جانب سے کبھی بھی کسی صارف سے تصدیقی کوڈ شیئر کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی کوئی ادارہ یا دوست اس کوڈ کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ اپ ڈیٹس: سخت ترین سیکیورٹی سیٹنگز کا نیا آپشن بھی شامل
اتھارٹی کے مطابق اگر کسی صارف کا اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو فوری طور پر واٹس ایپ کو ان انسٹال کر کے دوبارہ انسٹال کرنا چاہیے اور ایس ایم ایس یا کال کے ذریعے موصول ہونے والے 6 ہندسوں کے کوڈ کے ساتھ دوبارہ لاگ ان کرنا چاہیے۔ اکثر صورتوں میں اس عمل سے ہیکر کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو کسی دوسرے نمبر کے ذریعے اطلاع دیں کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے تاکہ وہ کسی مشکوک پیغام پر یقین نہ کریں۔
پی ٹی اے نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ مستقبل میں واٹس ایپ اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹو سٹیپ ویریفکیشن فعال کریں، کسی کو بھی تصدیقی کوڈ فراہم نہ کریں، مشکوک لنکس یا جعلی آفرز پر کلک کرنے سے گریز کریں اور اپنے اکاؤنٹ سے منسلک ڈیوائسز کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی واٹس ایپ اکاؤنٹس کی ہیکنگ بڑھ گئی، بچا کس طرح جائے؟
ویڈیو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ واٹس ایپ ہیکنگ دراصل کسی پیچیدہ تکنیکی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اکثر انسانی غلطیوں کی وجہ سے ہوتی ہے، اس لیے معمولی احتیاط سے خود کو اور اپنے قریبی لوگوں کو اس مسئلے سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
پی ٹی اے کی اس مہم پر سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ بعض صارفین نے آگاہی مہم کو سراہا جبکہ کچھ افراد نے انٹرنیٹ کی رفتار اور پیکیجز کی قیمتوں سے متعلق شکایات بھی کیں۔
پی ٹی اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آگاہی ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس اہم مسئلے سے باخبر ہوسکیں اور اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو محفوظ رکھ سکیں۔













