معروف پاکستانی اداکارہ اور ٹی وی میزبان جویریہ سعود نے رمضان کی رات اپنے ساتھ پیش آنے والے خوفناک واقعے کا ذکر کیا جس نے ناظرین کو حیران کر دیا۔
اپنے پروگرام میں جویریہ سعود نے بتایا کہ جب وہ رمضان ٹرانسمیشن نہیں کر رہی ہوتیں تو اعتکاف میں بیٹھتی ہیں اور سونے سے پہلے قرآن کی تلاوت لگاتی ہیں تاکہ نیند کے دوران بھی اسے سن سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ 8 سال قبل رمضان کے 12 یا 13ویں روزے کی ایک سرد رات تھی جب سورہ البقرہ چل رہی تھی کہ وہ اچانک جاگ گئیں اور ان کا جسم حرکت نہ کر سکا۔
جوریریہ سعود نے کہا کہ اس دوران ان کے بازو اور ٹانگیں مکمل طور پر بے حس ہو گئی تھیں اور ان کو شدید پسینہ آ گیا۔ جب وہ جاگیں تو انہوں نے خود کو اپنے سامنے دیکھا اور وہی دوپٹہ پہنے ہوئے تھیں جو ان کے سر پر تھا۔ وہ بولنا چاہتی تھیں مگر بول نہیں سکیں۔ پھر ان کی سامنے خاتون نے مردانہ آواز میں سلیمان بن داؤد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے مجھے بھیجا ہے بتاؤ، تم کیا چاہتی ہو؟
میزبان نے کہا کہ وہ دل ہی دل میں سورہ الفلق اور سورہ الناس کی تلاوت کرنے لگیں کیونکہ وہ بول نہیں سکتیں۔ یہ جملہ دوبارہ دہرایا گیا اور جب تیسری بار کہا گیا تو وہ آیت الکرسی کی تلاوت مکمل کر چکی تھیں۔ اس کے بعد یہ منظر اچانک غائب ہو گیا اور انہوں نے اپنے جسم میں ایک کرنٹ کی طرح کا احساس محسوس کیا جیسے کچھ جسم سے نکل گیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ’رمضان ٹرانسمیشن میں یہ کیا دیکھنا پڑ رہا ہے‘، خارش کے سوال پر جویریہ سعود کو ہنسنا مہنگا پڑ گیا
انہوں نے مزید کہا کہ وہ مکمل ہوش میں تھیں اور پسینے میں شرابور تھیں۔ پھر وہ اٹھیں اور وضو کیا تاہم انہوں نے کہا کہ آج تک وہ نہیں سمجھ پائیں کہ اصل میں کیا ہوا۔
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی ہے جہاں کچھ صارفین نے اسے نیند کی مفلوجی قرار دیا تو کئی اسے روحانی یا جن سے متعلق تجربہ مان رہے ہیں۔ جبکہ کئی صارفین نے ان پر تنقید کی کہ آج سے 8 سال پہلے روزے سردیوں کے نہیں گرمیوں کے تھے۔ اور 12 یا 13ویں روزے میں کون سا اعتکاف ہوتا ہے۔













