العلا میں 40 لاکھ سے زائد کھجور کے درخت مارکیٹ کو تقویت دینے لگے

جمعہ 6 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کے تاریخی علاقے العلا میں موجود 40 لاکھ سے زائد کھجور کے درخت مملکت بھر میں کھجور کی منڈیوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے کھجوروں کی تقسیم کے پروگرام پر عملدرآمد

رائل کمیشن برائے العلا کے مطابق گورنریٹ کے نخلستانوں میں تقریباً 41 لاکھ 44 ہزار کھجور کے درخت موجود ہیں جو تقریباً 16 ہزار 485 ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

العلا کے نخلستان اس علاقے کی نمایاں زرعی خصوصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ صدیوں سے کھجور کی پیداوار کے لیے مشہور رہا ہے اور کھجور کا درخت مقامی آبادی کی زندگی کا اہم حصہ رہا ہے جو نہ صرف خوراک بلکہ آمدنی کا بھی اہم ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ پہاڑوں اور چٹانی ساختوں سے گھرا یہ قدرتی منظرنامہ ان نخلستانوں کو مزید منفرد بناتا ہے۔

العلا میں سالانہ تقریباً 168.31 ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی نمایاں اقسام میں برنی کھجور خاص طور پر مشہور ہے اس کے علاوہ بھی کئی دیگر اقسام کی کھجوریں کاشت کی جاتی ہیں۔

کھجور کے باغات مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہاں پیدا ہونے والی کھجوریں نہ صرف سعودی عرب کے مختلف شہروں میں فروخت کی جاتی ہیں بلکہ انہیں بیرونِ ملک بھی برآمد کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: سعودی عرب: رمضان میں کھجوروں کی طلب میں اضافہ

ماہرین کے مطابق العلا کی کھجوروں کا معیار اور اقسام کا تنوع انہیں علاقائی اور عالمی منڈیوں میں مزید مسابقتی بناتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف گلوبل سسٹین ایبلٹی لیڈرشپ ایوارڈ کے لیے نامزد

کراچی میں میوزک کے شائقین کے لیے بڑی خبر، عالمی شہرت یافتہ ڈی جے ایکس ویل 19 ستمبر کو پرفارم کریں گے

شہریوں کے لیے بڑی سہولت: نادرا سینٹرز پر پاسپورٹ پروسیسنگ شروع کرنے کی تجویز پر غور

چین میں ٹیسلا سمیت 40 لاکھ سے زائد الیکٹرک گاڑیاں واپس بلا لی گئیں، وجہ کیا ہے؟

وزیراعظم سے سعودی کاروباری وفد کی ملاقات، زراعت، توانائی اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کا عزم

ویڈیو

ستمبر ’ستم گر‘: کیا استحکام پاکستان پارٹی کا وجود ختم ہونے جارہا ہے؟

اپوزیشن کو بار بار مذاکرات کی دعوت دے کر اب تھک چکا ہوں، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق

دور افتادہ علاقوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے معاون فاؤنڈیشن کی کاوشیں

کالم / تجزیہ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار

مولانا کیا چاہتے ہیں؟

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟