امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پھیل گئی ہے، تاہم جنگ بندی کی کوئی کوشش تاحال کامیاب نہیں ہو سکی۔
امریکا ایران کے خلاف کشیدگی میں اسرائیل کی براہ راست مدد کررہا ہے، اور اس کے اڈے مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے اہم ملاقات
خلیجی ممالک میں یہ امریکی اڈے امریکی جارحانہ صلاحیتوں کی تعیناتی کے لیے کلیدی مراکز ہیں اور طویل عرصے سے امریکی پالیسی کا سنگ بنیاد ہیں۔
امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس کی موجودگی عالمی تیل کی حفاظت، اتحادیوں کے تحفظ اور خطے میں ایرانی خطرات کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
بحرین میں امریکی نیوی کی پانچویں فلیٹ
امریکی نیوی کی پانچویں فلیٹ 1995 میں دوبارہ فعال کی گئی، جس کا مرکز بحرین میں واقع نیول سپورٹ ایکٹیویٹی ہے۔ یہ فلیٹ بحرین، خلیج فارس، ہرمز کی تنگی اور آس پاس کے پانیوں میں اپنی کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اس فلیٹ نے کئی آپریشنز میں حصہ لیا، جبکہ عراق جنگ اور داعش کے خلاف کارروائیوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

این ایس اے بحرین امریکی نیوی کا مرکزی کمانڈ سینٹر ہے، جس میں 8 ہزار 500 اہلکار تعینات ہوتے ہیں، تاہم حالیہ جنگی حالات کے سبب یہ تعداد ایک ہزار تک کم کی گئی ہے۔ یہاں سے فضائی کارروائیاں، بیلسٹک میزائل دفاع اور عالمی سطح پر سائنل انٹیلیجنس کے بڑے مراکز چلائے جاتے ہیں۔ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث یہاں کئی ہتھیار اور انفراسٹرکچر متاثر ہوئے ہیں۔
قطر العدید ایئر بیس
قطر میں العدید ایئر بیس 1996 میں قائم کیا گیا اور 2001 سے امریکی فضائیہ کی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ خطے کا سب سے بڑا امریکی فضائی اڈہ ہے، جہاں 10 اہلکار اہلکار موجود ہو سکتے ہیں۔
اس میں بی 52، بی-1B بمبار، ایف 22 اور ایف 35 لڑاکا طیارے تعینات ہیں۔ ایران کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں نے ایئر بیس کی ریڈار اور نگرانی کی صلاحیت متاثر کی ہے۔
کویت میں امریکی اڈے 1991 کے بعد قائم کیے گئے
کویت میں امریکی اڈے 1991 کے بعد قائم کیے گئے اور عراق جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران کی حالیہ جوابی کارروائیوں میں کویت میں امریکی اہلکار ہلاک ہوئے اور متعدد اڈے، ہتھیار اور گودام متاثر ہوئے۔

متحدہ عرب امارات: الظفرہ ایئر بیس اور جبل علی پورٹ
الظفرہ ایئر بیس میں امریکی اور یو اے ای کے اہلکار موجود ہیں، جبکہ جبل علی پورٹ امریکی بحریہ کے لیے لاجسٹک ہب کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
ایران نے حالیہ حملوں میں دونوں مراکز کو نشانہ بنایا، جس سے طیارے، ہنگرز اور ڈرون سسٹمز متاثر ہوئے۔
عمان میں امریکی فوج کا مستقل اڈہ نہیں
عمان میں امریکی فوج کا مستقل اڈہ نہیں، بلکہ متعدد اڈے اور بندرگاہیں استعمال کی جاتی ہیں۔
سعودی عرب: پرنس سلطان ایئر بیس
سعودی عرب میں امریکی فوجی موجودگی پرنس سلطان ایئر بیس کے گرد مرکوز ہے۔ یہاں لاجسٹک سپورٹ، میزائل دفاع اور حوثیوں کے خلاف اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ایران نے حالیہ حملوں میں سعودی اڈوں اور آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا آٹھواں روز: ایران کبھی سرینڈر نہیں کرےگا، تہران کا صدر ٹرمپ کو دوٹوک جواب
خطے میں کشیدگی اور ممکنہ نتائج
ایرانی حملوں کا مقصد خلیجی ریاستوں پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ امریکا کو آپریشن ختم کرنے پر مجبور کریں، تاہم اب ایران کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر خلیجی ریاستوں سے اس کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو تہران کی جانب سے بھی انہیں نشانہ نہیں بنایا جائےگا۔














