پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز شدید مندی کا رجحان رہا، جس کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی تھی۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دن کے دوران 11,015.96 پوائنٹس یعنی 6.99 فیصد کی شدید کمی کے ساتھ 146,480.14 پوائنٹس پر بند ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
مارکیٹ دن کے آغاز ہی سے تیز فروخت کے دباؤ کا شکار رہی اور صبح 9:22 بجے تک انڈیکس 9,780.15 پوائنٹس یعنی 6.21 فیصد گرگیا تھا۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں مارکیٹ ہالٹ نافذ کرتے ہوئے تمام ایکویٹی مارکیٹس معطل کر دی گئیں۔
Market Close Update: Negative Today! 👇
🇵🇰 KSE 100 ended negative by -11,016 points (-6.99%) and closed at 146,480.1 with trade volume of 378 million shares and value at Rs. 33 billion. Today's index low was 144,119 and high was 150,174. pic.twitter.com/usG7JDgsdg— Investify Pakistan (@investifypk) March 9, 2026
مارکیٹ 10:22 بجے دوبارہ کھولی گئی، تاہم ابتدائی سیشن میں انڈیکس مسلسل نیچے آیا اور دن کے دوران کم ترین 144,119.43 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
دوپہر کے بعد مارکیٹ میں جزوی بہتری دیکھی گئی، لیکن تیزی محدود رہی اور انڈیکس بعد از دوپہر معمولی اتار چڑھاؤ کے ساتھ بند ہوا۔
ماہرین کے مطابق یہ کے ایس ای 100 انڈیکس کی تاریخ میں دوسرا سب سے بڑا ایک روزہ نقصان ہے، اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ انڈیکس کی سب سے بڑی 3 ایک روزہ کمی 2026 میں ہی واقع ہوئی ہیں۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں غیر مستحکم ٹریڈنگ، انڈیکس 1,900 پوائنٹس گر گیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور پالیسی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے خطے میں کشیدگی کم کرنا ضروری ہے، جو اس وقت نظر نہیں آ رہی۔
علاوہ ازیں، تیل کی بلند قیمتیں ملکی بیرونی کھاتوں پر منفی اثر ڈال رہی ہیں اور مستقل مہنگائی کے خدشات پیدا کر رہی ہیں۔
مارکیٹ میں تمام اہم شعبوں میں فروخت دیکھی گئی، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیز، پاور جنریشن اور ریفائنری شامل ہیں۔

مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک، ماری انرجیز، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی نادرن، سوئی سادرن اور حبکو جیسے انڈیکس ہیوی اسٹاکس ریڈ زون میں میں ٹریڈ ہوئے۔
گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی رہی تھی، جس میں کے ایس ای 100 انڈیکس 10,566.08 پوائنٹس یعنی 6.3 فیصد کم ہو کر 157,496.09 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ایشیا کی مارکیٹس میں پیر کے روز شدید مندی دیکھی گئی، جہاں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی اور ممکنہ سود کی شرح میں اضافہ کے خدشات پیدا کیے۔ ب
مزید پڑھیں: پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا
رینٹ کی قیمت 23 فیصد اضافے کے ساتھ 114.36 ڈالر فی بیرل اور امریکی کروڈ کی قیمت 27 فیصد اضافے کے ساتھ 115.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ایران نے علی خامنہ ای کے جانشین کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کا نام دیا، جس سے سخت گیر رہنماوں کا تسلط برقرار رہنے کا اشارہ ملا۔
اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جاری ہے اور تیل کی سپلائی اور شپنگ کے اہم راستے خطرے میں ہیں، جو عالمی توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔
جاپان، جنوبی کوریا اور چین کی مارکیٹس بھی تیل کی بلند قیمتوں اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث دباؤ میں رہی ہیں، جس نے ایشیا کی معیشت پر منفی اثر ڈالا۔














