پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کے روز شدید مندی دیکھنے میں آئی جب سرمایہ کاروں کی گھبراہٹ کے باعث بڑے پیمانے پر فروخت شروع ہو گئی اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں ہزاروں پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر مندی کا طوفان، مارکیٹ ہالٹ کا نفاذ
ٹریڈنگ کے آغاز پر ہی کے ایس ای-100 انڈیکس میں تیزی سے کمی آئی اور یہ 7,322 پوائنٹس یا 6.21 فیصد گر گیا جس کے باعث مارکیٹ میں بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی اور مختلف شعبوں کے حصص شدید دباؤ کا شکار ہو گئے۔
مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق دوپہر 12 بج کر 44 منٹ تک کے ایس ای-100 انڈیکس 146,620.56 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا تھا، جو گزشتہ سیشن کے اختتام کے مقابلے میں 10,995.24 پوائنٹس یا 6.98 فیصد کم تھا۔
شدید مندی کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مارکیٹ ہالٹ نوٹس جاری کرتے ہوئے بتایا کہ کے ایس ای-30 انڈیکس میں گزشتہ اختتامی سطح کے مقابلے میں 5 فیصد کمی کے باعث ٹریڈنگ عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ پی ایس ایکس کے قواعد کے مطابق اس دوران تمام ایکویٹی مارکیٹس میں کاروبار روک دیا گیا اور سسٹم میں موجود تمام زیر التوا آرڈرز خودکار طور پر منسوخ ہو گئے۔
ایکسچینج کے مطابق مقررہ طریقہ کار کے تحت وقفے کے بعد ٹریڈنگ دوبارہ بحال کی جائے گی۔
دریں اثنا سرمایہ کاروں میں بے چینی کی ایک بڑی وجہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کا متوقع اعلان بھی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی آج شرح سود کے حوالے سے اپنا فیصلہ سنانے والی ہے اور ممکنہ اضافے کے خدشات نے مارکیٹ کے اعتماد کو مزید متاثر کیا ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے نے بھی مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا ہے جس کے باعث حصص کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
مزید پڑھیے: اسٹاک ایکسچینج میں غیر مستحکم ٹریڈنگ، انڈیکس 1,900 پوائنٹس گر گیا
واضح رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تقریباً 83 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا لگا ہے۔
خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امیدیں بھی پوری نہ ہو سکیں جبکہ تیل بردار جہازوں پر حملوں کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو پاکستان کی معیشت پر اس کے نمایاں اثرات پڑ سکتے ہیں جن میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ، روپے پر دباؤ، مہنگائی میں اضافہ اور معاشی شرح نمو میں سست روی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی
ممکنہ شرح سود میں اضافے کے خدشات اور عالمی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا کی جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر فروخت ہوئی اور بالآخر ٹریڈنگ معطل کرنی پڑی۔














