پاکستان میں 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی آج مقررہ شیڈول کے مطابق شروع ہوچکی اور اس ضمن میں تینوں شرکا یعنی جاز، زونگ اور یوفون کے ساتھ عملی مشقیں مکمل کرلی گئی ہیں۔
گزشتہ روز دی گئی پس منظر بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن شزا فاطمہ نے بتایا کہ اسپیکٹرم نیلامی کے عمل میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ تینوں شراکت داروں کو فائدہ حاصل ہو۔
یہ بھی پڑھیں: انتظار ختم، پاکستان میں 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی ٹائم لائن کا اعلان ہوگیا
انہوں نے بتایا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کے بیشتر مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں ان پر مالی بوجھ میں کمی آئے گی۔
حکومت کو نیلامی کے عمل سے آمدنی حاصل ہوگی جبکہ صارفین کو ملک بھر میں تیز رفتار اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کی سہولت میسر آئے گی۔
Auction for Next Generation Mobile Services including 5G spectrum will be held today@MoitOfficial #News #RadioPakistan https://t.co/H3bYastzcc
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) March 10, 2026
شزا فاطمہ کے مطابق اس وقت ملک میں پورا نظام صرف 274 میگاہرٹز اسپیکٹرم پر چل رہا ہے جس کی وجہ سے نیٹ ورک کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ملک میں فور جی کی رفتار اور اس کے دائرۂ کار کو بہتر بنانا ہے، جبکہ نیلامی کے بعد 5جی سروس کا آغاز بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت تقریباً 600 میگاہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کر رہی ہے اور موجودہ نیلامی کے عمل میں 4 نئے بینڈ متعارف کرائے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: 5جی آکشن کی تیاریاں مکمل: ابتدائی مرحلے میں پاکستان کے کن مقامات پر دستیاب ہوگا؟
جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے کم از کم 100 میگاہرٹز حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کمپنیوں کی جانب سے کم از کم 300 میگاہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا جاتا ہے تو نظام میں دستیاب اسپیکٹرم دوگنا ہو جائے گا، جس سے صارفین کے بیشتر مسائل حل ہو جائیں گے۔
حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ تینوں ٹیلی کام آپریٹر 5جی سروس میں شامل ہوں، نیلامی پالیسی کے تحت 3500 اور 2600 میگاہرٹز بینڈز حاصل کرنا لازمی قرار دیا ہے کیونکہ یہ 5جی سروس کے لیے ضروری ہیں۔
مزید پڑھیں: حکومت کا وہ کام جو پاکستان میں 5جی انٹرنیٹ عام کردے گا
اسی طرح 700 میگاہرٹز بینڈ پہلی مرتبہ پیش کیا جا رہا ہے جو طویل فاصلے تک کوریج فراہم کرنے کے لیے اہم ہے اور کم آبادی والے علاقوں میں بنیادی ٹیلی فون سروس فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا کہ نیلامی جدید تکنیکی اور ڈیجیٹل طریقۂ کار کے ذریعے کی جائے گی.
انہوں نے تینوں ٹیلی کام کمپنیوں نے نیلامی کے طریقۂ کار اور استعمال ہونے والے سافٹ ویئر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔














