پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے پہلے راؤنڈ کا کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔
پہلے مرحلے میں دستیاب 6 بینڈز میں سے 2 بینڈز پر بولی ہوئی، جس میں ملک کی تینوں بڑی ٹیلی کام کمپنیوں نے حصہ لیا۔
پی ٹی اے کے مطابق، 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں 190 میگا ہرٹز سپیکٹرم دستیاب تھا، جبکہ 19 لاٹس کے لیے 30 بولیاں موصول ہوئیں۔
اضافی طلب کے باعث 11 لاٹس پر اضافی بولیاں آئیں، جس کے نتیجے میں اس بینڈ کی قیمت میں 5 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تیز انٹرنیٹ کی راہ ہموار، 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی آج
ڈی جی لائسنسنگ عامر شہزاد نے بتایا کہ 2600 میگا ہرٹز بینڈ میں کسی آپریٹر نے 2 لاٹس بھی سوئچ کی ہیں اور بولی کا عمل اگلے راؤنڈ میں جاری رہے گا۔
دوسری جانب، 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں 280 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب تھا، جس کے لیے 28 لاٹس میں سے 20 پر بولی موصول ہوئی۔
پہلے راؤنڈ کے بعد دوسرا راؤنڈ بھی شروع کیا گیا، جس کا دورانیہ 30 منٹ تھا اور اس میں بھی تینوں ٹیلی کام کمپنیاں حصہ لے رہی تھیں۔
مزید برآں، 700 میگا ہرٹز بینڈ میں بھی 2 لاٹس پر بولی موصول ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: اسپیکٹرم کیا ہے اور پاکستان میں اس پر تنازع کیوں، اس کا انٹرنیٹ اسپیڈ سے کیا تعلق ہے؟
پی ٹی اے نے پہلے راؤنڈ کے نتائج جاری کر دیے ہیں اور نیلامی کے دوسرے راؤنڈ کے نتائج بھی اعلان کر دیے گئے ہیں۔
نیکسٹ جنریشن انٹرنیٹ سروس کی نیلامی کا افتتاح وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کیا۔
نیلامی کے اس عمل کے ذریعے ملک میں 5جی سروس متعارف کرانے کی راہ ہموار ہوگی جس سے صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت میسر آنے کی توقع ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز یعنی 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی کو پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران اس نیلامی کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے وسیع پیمانے پر کوششیں کی گئیں اور آج ان کوششوں کا ثمر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی سربراہی میں قائم اسپیکٹرم کمیٹی نے تفصیلی مشاورت کے بعد ایسا متوازن فریم ورک تیار کیا جس کا مقصد حکومتی آمدن میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکٹرم نیلامی کا عمل دراصل 2021 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب موجودہ وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اپنے سابقہ دور میں اس منصوبے کی قیادت کر رہی تھیں۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس تسلسل کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن پالیسیوں کا تسلسل ہی ترقی کی ضمانت بنتا ہے۔
مزید پڑھیں: انتظار ختم، پاکستان میں 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی ٹائم لائن کا اعلان ہوگیا
وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیجیٹل ترقی خود مقصد نہیں بلکہ وسیع تر معاشی اور سماجی ترقی کا ذریعہ ہے، بہتر ڈیجیٹل رابطہ کاری کے ذریعے عوام کو تیز رفتار، کم لاگت اور معیاری خدمات میسر آئیں گی جس سے معیشت کے مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کا شعبہ پاکستان کے لیے تیزی سے ترقی کرنے والا میدان ہے اور بہتر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اس شعبے کو مزید تقویت دے گا، جس سے برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسپیکٹرم کی دستیابی میں اضافے اور 5جی سروس کے آغاز سے مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ویب 3 جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے فروغ میں بھی مدد ملے گی اور پاکستان جدید ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے آگے بڑھے گا۔
مزید پڑھیں: 5جی آکشن کی تیاریاں مکمل: ابتدائی مرحلے میں پاکستان کے کن مقامات پر دستیاب ہوگا؟
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بہتر ڈیجیٹل رابطہ کاری بحران کے حالات میں بھی آن لائن تعلیم، ریموٹ ورکنگ اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کو آسانی سے جاری رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے چیئرمین حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ طویل انتظار کے بعد بالآخر یہ دن آ پہنچا ہے۔
انہوں نے فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ سمیت دیگر اداروں اور متعلقہ فریقوں کا شکریہ ادا کیا جن کی کوششوں سے اضافی اسپیکٹرم دستیاب ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپیکٹرم کی کمی طویل عرصے سے پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج رہی ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت کا وہ کام جو پاکستان میں 5جی انٹرنیٹ عام کردے گا
انہوں نے ڈیجیٹل رابطہ کاری کو ’ڈیجیٹل شاہراہ اور پاکستان کی معیشت کا انجن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نیلامی کے آغاز کے ساتھ ملک ایک نئے تکنیکی دور میں داخل ہو رہا ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے ایک اہم پالیسی اقدام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان ایشیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے رائٹ آف وے کے چارجز ختم کر دیے ہیں۔
ان چارجز کو فی کلومیٹر 36 ہزار روپے سے کم کر کے صفر کر دیا گیا ہے تاکہ ٹیلی کام ڈھانچے کی توسیع اور فائبر بچھانے کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں