چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے کیس کی سماعت کی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اپنی طبیعت ناساز ہونے کے باعث پیش نہ ہو سکے، تاہم سیکرٹری داخلہ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔
سیکرٹری داخلہ نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کی غیر حاضری کے باوجود متعلقہ معلومات فراہم کر رہے ہیں اور کابینہ کے سامنے ڈرافٹ نوٹی فکیشن منظور کے لیے رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑیے: کوئٹہ بلدیاتی انتخابات کیس: وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا
الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایا کہ ڈرافٹ میں غیر ضروری یونین کونسل کے نام شامل کیے گئے ہیں، جبکہ ای سی پی کا مینڈیٹ مخصوص ہے اور ٹاون اور نمبر یونین کونسل کی تفصیل طلب کی گئی تھی۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ ڈرافٹ میں یونین کونسل کی تعداد 125 سے بڑھا کر 130 کر دی گئی اور وارڈ کی تفصیل بھی غیر ضروری طور پر دی گئی۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی حکومت 2021 فروری سے قائم نہیں، جبکہ اس دوران 2 حکومتیں اور ایک نگراں حکومت آ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومت پر تمام سابقہ حکومتوں نے مثبت جواب دیا، لیکن موجودہ حکومت میں الیکشن کمیشن اور بلدیاتی حکومت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے توہین کا نوٹس جاری کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد بلدیاتی انتخابات میں تاخیر: الیکشن کمیشن نے سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جبکہ وزیر داخلہ کو طلب کرلیا
چیف الیکشن کمشنر نے سیکرٹری داخلہ کی حاضری پر نوٹس واپس لیتے ہوئے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا، جس کی سربراہی چیف کمشنر یا ڈی سی کریں گے اور اس میں کمیشن کے لوگ بھی شامل ہوں گے تاکہ کمیشن اور آئی سی ٹی کے امور مشترکہ طور پر دیکھے جا سکیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ اسلام آباد اور پنجاب میں انتخابات کے معاملے میں مزید تاخیر نہیں ہوگی۔ سماعت آئندہ کارروائی کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔














