صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی جنوبی سرحد پر ایک نئی آئل ریفائنری کی تعمیر کا اعلان کیا ہے، جسے بھارت کی بڑی نجی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کی حمایت حاصل ہوگی۔
امریکی صدر نے اس منصوبے کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکا میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، روس سے تیل کی درآمد بند
دوسری جانب ملک میں وسط مدتی انتخابات کی تیاریاں بھی جاری ہیں جو یہ طے کریں گے کہ آئندہ 2 برس کے لیے کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھارت میں اپنے شراکت داروں اور وہاں کی سب سے بڑی نجی توانائی کمپنی ریلائنس کی اس بڑی سرمایہ کاری پر شکریہ ادا کیا ہے۔
https://Twitter.com/EconomicTimes/status/2031575243635175839
بیان کے مطابق روزانہ ایک لاکھ 68 ہزار بیرل صلاحیت کی حامل یہ ریفائنری براؤنزویل پورٹ پر تعمیر کی جائے گی۔
منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی امریکا فرسٹ ریفائنری کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے بھارت کے ساتھ امریکا کے تقریباً 300 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
کمپنی کے چیئرمین اور بانی جان وی کلسی کے مطابق نصف صدی میں یہ پہلا موقع ہوگا جب امریکا میں ایسی نئی ریفائنری تعمیر کی جا رہی ہے جو خاص طور پر امریکی شیل آئل کو پراسیس کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مودی کے ساتھی مکیش امبانی امریکی پابندیوں کے برخلاف روسی تیل سے اربوں کما لیے
ماہرین کے مطابق خلیجی ساحل پر موجود کئی ریفائنریز شیل آئل کو مکمل طور پر پراسیس نہیں کر سکتیں کیونکہ گزشتہ 4 دہائیوں میں انہیں نسبتاً سستا مگر بھاری اور زیادہ سلفر والا خام تیل پراسیس کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
امریکا فرسٹ ریفائننگ کے مطابق ایک عالمی سطح کی بڑی کمپنی نے اس منصوبے میں ’نو ہندسوں‘ کی سرمایہ کاری کی ہے جس کی مالیت ’دس ہندسوں‘ کی قدر تک پہنچتی ہے، صدر ٹرمپ نے اس سرمایہ کار کا نام ریلائنس انڈسٹریز بتایا ہے۔
🚨 HISTORIC: Pres. Trump announces the 1st new U.S. Oil Refinery in 50 years is coming to Brownsville, TX! 🇺🇸🛢️
Special thanks to partners in 🇮🇳 India & Reliance for this massive investment! #AmericaFirst #Energy #Texas #Reliance pic.twitter.com/RQN83zYP2S— CivilBuzz (@NetiNeti24) March 10, 2026
بیان میں کہا گیا ہے کہ ریلائنس نے امریکا فرسٹ کے ساتھ 20 سالہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت وہ اس ریفائنری میں تیار ہونے والی مصنوعات خریدے گی۔
اس سے بھارت کے امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس میں کمی آئے گی، جو ٹرمپ حکومت کی شکایتوں میں شامل رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق منصوبے پر رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں تعمیراتی کام شروع ہونے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں: روسی تیل اور بھارتی ریفائننگ، پیسے کس نے کھرے کیے؟
تاہم توانائی کے بعض ماہرین نے خلیجی ساحل پر نئی ریفائنری کی ضرورت پر سوال اٹھایا ہے کیونکہ امریکا کی 10 بڑی ریفائنریز میں سے 8 پہلے ہی اسی خطے میں واقع ہیں۔
توانائی تجزیاتی ادارے ریفائنڈ فیول اینالیٹکس کے منیجنگ ڈائریکٹر جان آورز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی اعلانات میں اکثر مبالغہ پایا جاتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریفائنری واقعی براؤنزویل میں تعمیر ہوتی ہے تو غالب امکان ہے کہ اسے برآمدات کے لیے استعمال کیا جائے گا کیونکہ مقامی طلب محدود ہے اور پائپ لائن رابطے بھی کم ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں ہلچل، خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر
واضح رہے کہ ریلائنس انڈسٹریز بھارت کے شہر جام نگر میں روزانہ 14 لاکھ بیرل صلاحیت کے دنیا کے سب سے بڑے ریفائننگ کمپلیکس کی مالک ہے۔
کمپنی گزشتہ برس 125 ارب ڈالر آمدنی رپورٹ کر چکی ہے اور اس کے کاروبار میں ریٹیل، نئی توانائی، ڈیجیٹل سروسز، میڈیا اور تفریح کے شعبے بھی شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے آخر سے کیلیفورنیا میں 2 ریفائنریز مستقل طور پر بند ہو چکی ہیں جن کی مجموعی صلاحیت 2 لاکھ 84 ہزار بیرل یومیہ تھی۔














