آسٹریلیا نے ایندھن کے معیار سے متعلق قواعد میں تقریباً 2 ماہ کے لیے نرمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ زیادہ سلفر والے پیٹرول کی اجازت دی جا سکے۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے مقامی مارکیٹ میں تقریباً 10 کروڑ لیٹر پیٹرول شامل ہو سکے گا۔
آسٹریلیا، جو ایندھن کے لیے زیادہ تر درآمد شدہ تیل پر انحصار کرتا ہے، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے بحری تجارت کا رخ افریقی ساحلوں کی طرف موڑ دیا
اس صورتحال کے جواب میں توانائی کے وزیر کرس بووین نے کہا کہ ملک کی بڑی ریفائننگ کمپنی ایمپول نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ اپنی کچھ سپلائی ان علاقوں اور ہول سیل مارکیٹ کی طرف منتقل کرے گی جہاں ایندھن کی قلت کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں ہر ماہ تقریباً 10 کروڑ لیٹر اضافی پیٹرول مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہوگا، جو بصورتِ دیگر برآمد کیا جانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں، ماہی گیروں اور علاقائی کمیونٹیز کو امداد اور سپلائی فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
Australia to change fuel quality standards to boost supplyhttps://t.co/lPZWDqVmQn
— Economic Times (@EconomicTimes) March 12, 2026
جمعرات کے روز تیل کی عالمی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جس کی وجہ ایران کی جانب سے جہاز رانی پر حملے بتائے جا رہے ہیں، جن کے باعث اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہو گئی۔
یہ کارروائیاں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں کی گئیں جن میں ایران کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ کن شعبوں کو سب سے زیادہ متاثر کرے گا؟
آسٹریلیا کی حکومت نے ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا الزام ریٹیلرز کی جانب سے مبینہ منافع خوری پر بھی عائد کیا ہے۔
آسٹریلیا کے خزانہ وزیر نے کہا کہ ملک میں مجموعی طور پر ایندھن موجود ہے، تاہم سپلائی کے مسائل خاص طور پر دیہی علاقوں میں دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

انہوں نے قومی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع پہلے ہی آسٹریلوی عوام پر اضافی دباؤ ڈال رہا ہے۔
ادھر انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس کے رکن ممالک مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کم کرنے کے لیے اپنے ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کریں گے، جو اب تک کی سب سے بڑی مشترکہ ریلیز ہوگی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: افواہوں کے باعث پیٹرول پمپس پر رش، حکومت کا وافر ذخائر کا دعویٰ
یہ تنظیم کی تاریخ میں چھٹی بار ایسا اقدام ہوگا، اس ادارے کا قیام 1973 کے تیل بحران کے بعد بڑے پیمانے پر سپلائی میں خلل کی صورت میں مشترکہ ردِعمل کو منظم کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔
اس تنظیم کا رکن ہونے کے ناطے آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ اپنی طرف سے جاری کیے جانے والے تیل کو بنیادی طور پر مقامی مارکیٹ کے لیے استعمال کرے گا۔













