مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور حکمران جماعت جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے رہنما فاروق عبداللہ جموں میں منعقدہ شادی کی ایک تقریب کے دوران قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے۔
واقعے کے وقت ڈپٹی چیف منسٹر سریندر چوہدری ان کے ہمراہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: کشمیر کے یوم شہدا پر وزیر اعلیٰ بھی مقید
جموں و کشمیر پولیس کے مطابق، فائرنگ کا مذکورہ واقعہ رائل پارک، گریٹر کائلش، جموں میں ایک شادی کی تقریب کے دوران پیش آیا۔
مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی شناخت کمال سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔
The assailant Kamal Singh Jamwal, was confronted after firing a bullet on Dr Farooq Abdullah who escaped unhurt #Jammu pic.twitter.com/3tB76pMqYX
— Kashmir News Trust༝ (@kntnewsagency) March 11, 2026
پولیس نے کہا کہ حملے میں استعمال ہونے والا ہتھیار بھی مل گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
عمر عبداللہ نے اپنے والد کے محفوظ رہنے کو ’انتہائی قریب سے بچاؤ‘ قرار دیتے ہوئےکہا کہ یہ واقعہ ایک ممکنہ قاتلانہ حملہ تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کس طرح کوئی شخص ان کے والد کے اتنا نزدیک پہنچ سکا جبکہ وہ انتہائی سیکیورٹی کے ساتھ تھے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرعام پر آئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فاروق عبداللہ اور چوہدری لوگوں کے درمیان چل رہے تھے۔
مزید پڑھیں: سری نگر میں عام آدمی پارٹی کے ایم پی کی نظر بندی، فاروق عبداللہ سمیت اپوزیشن کی مذمت
ایسے میں اچانک ایک شخص ان کے پیچھے آ کر فائر کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر حفاظتی عملہ بروقت مداخلت کر کے حملہ ناکام بنا دیتا ہے۔
عینی شاہد راکش سنگھ نے بتایا کہ حملہ آور نے ریوالور فاروق عبداللہ کے پیچھے رکھا اور فائر کیا، مگر ہدف سے چوک گیا۔
جے این کے این سی کے رکن اسمبلی اعجاز احمد جان نے کہا کہ حملہ آور فوراً قابو میں آ گیا اور پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
ایس پی ساؤتھ جموں اجے شرما کے مطابق حملہ آور کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کی گئی ہیں تاکہ حملے کے محرکات معلوم کیے جا سکیں۔













