اسٹریٹ آرٹسٹ بینکسی نے تصدیق کی ہے کہ وسطی لندن میں حال ہی میں نمودار ہونے والا ایک بڑا مجسمہ ان کا بنایا ہوا فن پارہ ہے۔
یہ مجسمہ ان کے دستخط کے ساتھ سامنے آیا ہے، جو ایک سوٹ پہنے شخص کو آگے بڑھتے ہوئے دکھاتا ہے، جس کے ہاتھ میں ایسا جھنڈا ہے جو اس کا چہرہ چھپا رہا ہے۔
یہ مجسمہ لندن کے علاقے واٹرلو پلیس، سینٹ جیمز میں نصب کیا گیا ہے، جو 1800 کی دہائی میں برطانوی سامراج اور فوجی طاقت کی یادگار کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی طرف سے ویتنام کو ’فاسٹنگ بدھا‘ کے تاریخی مجسمہ کا تحفہ
اسی مقام کے قریب ایڈورڈ ہفتم، فلورنس نائٹنگیل اور کریمین جنگ کی یادگاریں بھی موجود ہیں۔
بینکسی کے نمائندوں کے مطابق یہ مجسمہ بدھ کی صبح کے ابتدائی اوقات میں نصب کیا گیا تھا، جبکہ جمعرات کی سہ پہر آرٹسٹ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اس کی ویڈیو شیئر کر کے اس کی ذمہ داری قبول کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فن پارہ طاقت سے مغلوب ایک ایسے شخص پر تبصرہ ہے جو سینہ تان کر آگے بڑھ رہا ہے لیکن اس کی بصارت ایک پرچم سے علامتی طور پر ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
Potential new Banksy art has appeared in central London. The sculpture shows a man marching with a flag that is draped across his face in Waterloo Place, just off the mall. Although the name Banksy is scrawled along the base, it's still to be officially confirmed as his work. pic.twitter.com/kyN3hCLKzX
— Channel 4 News (@Channel4News) April 30, 2026
بینکسی پر سیریز کی روح رواں جیمز پیک کا کہنا ہے کہ مجسمہ میں دکھایا گیا شخص اپنی اسی ’معذوری‘ کے باعث وہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے۔
ان کے مطابق یہ لمحہ ’ایک شاندار اور منفرد اسٹیجنگ‘ ہے جو روایتی مجسمہ سازی میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
’ بینکسی نے ایک بار پھر ’شاندار تخلیقی کامیابی‘ حاصل کی ہے، اور مجسمے کی جگہ کا انتخاب بھی انتہائی مؤثر ہے۔‘
مزید پڑھیں: ’کنگ آف دی ورلڈ‘ مجسمہ، ٹرمپ اور ایپسٹین کی دوستی پر طنزیہ فن پارہ
جیمز پیک کے مطابق یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اتنی سیکیورٹی کے باوجود اتنا بڑا مجسمہ وہاں کیسے نصب کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فن پارہ برطانیہ کی سامراجی تاریخ اور قوم پرستی پر تنقید ہے، جو بینکسی کے اکثر کاموں کا مرکزی موضوع ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب بینکسی نے لندن میں مجسمہ نصب کیا ہو۔ 2004 میں بھی ان کا ایک مجسمہ ’دی ڈرنکر‘ شیفٹس بری ایونیو پر رکھا گیا تھا جو کچھ ہی عرصے بعد چوری ہو گیا تھا۔
Banksy's signature appears on new statue in central London https://t.co/ggSntHhuKV
— F Bret (@f__b) April 30, 2026
بینکسی کے حالیہ کاموں میں گزشتہ برسوں کے دوران لندن کے مختلف حصوں میں بنائی گئی دیواروں پر پینٹنگز بھی شامل ہیں۔
جن میں جانوروں کی ایک سیریز، احتجاجی مناظر اور سماجی و سیاسی تبصرے شامل رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا میں چور گاندھی کا مجسمہ لے اُڑے، پاؤں چھوڑ گئے
ان کے فن پارے عموماً خفیہ طور پر سامنے آتے ہیں اور بعد میں ان کے انسٹاگرام پر ان کی تصدیق کی جاتی ہے، جبکہ اکثر انہیں جلد ہی ہٹا دیا جاتا ہے۔
بینکسی کے یہ فن پارے دنیا بھر میں سیاسی اور سماجی پیغامات کے طور پر سمجھے جاتے ہیں۔













