’میں نے ہر اصول کی خلاف ورزی کی‘، کمپنی کا پورا ڈیٹا بیس ٹھکانے لگانے کے بعد اے آئی ایجنٹ کلاڈ کا اعتراف

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک بڑی اے آئی ناکامی نے خود مختار سسٹمز کی حفاظت کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے جب ایک کوڈنگ ایجنٹ نے کمپنی کے پورے پروڈکشن ڈیٹا بیس کو چند سیکنڈز میں حذف کر دیا جس سے آپریشنز متاثر ہوئے اور گاہک پریشان ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ ایک اور معاہدے کے لیے پرامید، ٹیک کمپنی انتھروپک سیکیورٹی رسک کے بجائے مفید قرار

گاڑیوں کے رینٹل کاروبار کے لیے سافٹ ویئر فراہم کرنے والی کمپنی پاکٹ او ایس اپنے ڈیٹا بیس بشمول بیک اپس کوانتھروپک کے کلاڈ اوپس 4.6  ماڈل سے چلنے والے اے آئی ایجنٹ کی وجہ سے تباہ ہونے کا سامنا کر رہی تھی۔

کمپنی کے بانی جیریمی کرین نے کہا کہ سسٹم نے صرف 9 سیکنڈز میں یہ نقصان پہنچایا جس سے آپریشنز رک گئے۔

یہ واقعہ ان کاروباری اداروں پر شدید اثرات ڈال گیا جو پاکٹ اوایس پر انحصار کرتے تھے کیونکہ گاہکوں کو ریزرویشنز اور گاڑیوں کا ڈیٹا تک رسائی نہیں تھی۔

کرین نے کہا کہ پچھلے 3 مہینوں میں کی جانے والی ریزرویشنز غائب ہو گئی ہیں۔ نئے گاہکوں کے سائن اپس غائب ہیں۔ وہ ڈیٹا جو انہوں نے ہفتے کی صبح کے آپریشنز کے لیے استعمال کیا تھا غائب ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیے: اے آئی کمپنیاں ہمیں اپنے ہی بنائے نظام سے کیوں ڈراتی ہیں؟

ماہرین کو مزید تشویش اس وقت ہوئی جب اے آئی ایجنٹ نے اس ناکامی کی وضاحت دی۔ جب اس سے سوال کیا گیا تو اس نے تسلیم کیا کہ اس نے ہر اصول کی خلاف ورزی کی جو اسے دیا گیا تھا۔

سسٹم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس نے واضح حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کیا اور کہا کہ بغیر صارف کی منظوری کے اسے کبھی بھی تخریبی/ناقابل واپسی اقدامات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

کرین نے اس واقعے کو ایک وسیع تر انتباہ قرار دیا جو اہم انفراسٹرکچر میں اے آئی کے تیز رفتار انضمام اور مناسب حفاظتی تدابیر کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی اداروں کو جدید اے آئی ماڈل تک رسائی دینے پر غور، سائبر سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے

انہوں نے کہا کہ ایسی نظامی ناکامیاں صرف ممکن نہیں بلکہ ناگزیر ہیں کیونکہ کمپنیاں تعیناتی کی رفتار کو مضبوط حفاظتی اقدامات سے زیادہ ترجیح دیتی ہیں۔

اگرچہ پاکٹ او ایس نے کچھ ڈیٹا پرانے بیک اپس سے بحال کر لیا لیکن اس کی بحالی میں 2 دن سے زیادہ کا وقت لگا جس سے گاہکوں کو ڈیٹا کے بڑے خلا کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے: اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈل کے ممکنہ سائبر خطرات، برطانیہ کے ریگولیٹرز الرٹ ہوگئے

یہ واقعہ اے آئی  پر مبنی خودکار نظاموں کے بڑھتے ہوئے خطرات کو اجاگر کرتا ہے خاص طور پر جب کاروبار ان سسٹمز پر اپنے بنیادی آپریشنز کے لیے انحصار کرتے ہیں جس سے اے آئی کی معتبریت، نگرانی اور جوابدہی کے بارے میں فوری سوالات اٹھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp