آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد، کیا گوادر، پورٹ قاسم اور کراچی کی بندرگاہیں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں؟

جمعہ 13 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی بحری بندرگاہوں (کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر) کو بین الاقوامی تجارت کے لیے متبادل راستے کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی روانی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

عالمی تجارتی بحران اور پاکستان کا کردار

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے کی بندش یا وہاں پیدا ہونے والی رکاوٹیں عالمی سپلائی چین کو مفلوج کر سکتی ہیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے حالیہ بیانات کے مطابق پاکستان نے اس بحران کو ایک موقع کے طور پر دیکھا ہے اور اپنی بندرگاہوں کے دروازے دنیا کے لیے کھول دیے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کئی بین الاقوامی شپنگ لائنز اور کمپنیوں نے پہلے ہی پاکستان کے ذریعے اپنی ترسیل کے لیے آرڈرز بک کر لیے ہیں۔

بندرگاہوں کی صلاحیت کا موازنہ

دفاعی تجزیہ کار سید محمد علی کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز کی صورتحال کی وجہ سے قریباً 700 کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں یا سست روی کا شکار ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے پاس موجودہ انفراسٹرکچر بہت زیادہ وسیع ہے۔ پاکستان کے یہ تینوں پورٹس مل کر 26 ہزار کنٹینرز روزانہ کی بنیاد پر ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو موجودہ بحران میں عالمی تجارت کو سہارا دینے کے لیے کافی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی لحاظ سے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔

گوادر اور سی پیک کی فعالیت

سید محمد علی کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو فعال کرنے کا یہ بہترین وقت ہے۔ اگر بین الاقوامی بحری جہاز آبنائے ہرمز کے بجائے گوادر کو اپنا ٹرانزٹ ہب بناتے ہیں تو اس سے نہ صرف بندرگاہ کے ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ سی پیک کے تحت بنے ہوئے سڑکوں کے جال کا استعمال بھی بڑھے گا۔

یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز بند: پاکستانی پورٹس کی دنیا بھر کو ٹرانزٹ سہولت دستیاب

معاشی ماہر سلمان نقوی کا کہنا ہے کہ وسط ایشیائی ریاستوں کے لیے پاکستان اب واحد محفوظ ترین راستہ بن کر ابھر سکتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی بندرگاہوں پر کلیئرنس کے عمل کو تیز کر دے اور ٹیرف میں رعایت دے تو یہ مستقل طور پر ایک بڑا تجارتی مرکز بن سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک بڑا موقع ہے، لیکن کچھ چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں کنٹینرز کی ہینڈلنگ کے لیے ریلوے اور ٹرکنگ کے نظام کو مزید جدید بنانا ہوگا۔ گوادر اور تجارتی راستوں پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ناگزیر ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے پاکستان کو عالمی نقشے پر ایک اہم میری ٹائم پارٹنر کے طور پر پیش کیا ہے۔ اگر حکومت اور دفاعی ادارے مل کر اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو پاکستان کا بحری شعبہ ملکی معیشت کو بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار تنویر ملک کا کہنا ہے کہ سید محمد علی کا یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ جہاں سینکڑوں کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں، وہاں پاکستان کی 26 ہزار کنٹینرز کی گنجائش ایک بہت بڑا بفر زون فراہم کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی بندرگاہیں (کراچی، پورٹ قاسم، گوادر) صرف مقامی نہیں بلکہ علاقائی تجارتی حب بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے پاک نیوی کے حفاظتی حصار میں کروڑ لیٹر تیل کی فجیرا سے کراچی منتقلی

تنویر ملک کے مطابق حکومت اس وقت سی پیک (CPEC) کو کاغذوں سے نکال کر عملی طور پر عالمی سپلائی چین کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر دنیا اس وقت پاکستان کا راستہ اختیار کرتی ہے تو مستقبل میں بھی یہ کمپنیاں گوادر کو ایک محفوظ اور سستا راستہ سمجھ کر مستقل بنیادوں پر استعمال کر سکتی ہیں۔

بلال اظہر کیانی کا آرڈرز کی بکنگ کے حوالے سے بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ حکومت اس بحران کو ایک موقع میں بدلنے کے لیے متحرک ہے۔ ترسیلی سہولیات کی فراہمی سے پاکستان کو بھاری ٹرانزٹ فیس اور سروسز کی مد میں ریونیو حاصل ہوگا، اور یہ ایسا موقع ہے کہ اگر پاکستان اس سے فائدہ اٹھا لے تو یہ ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست، سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے وصول کرنے سے انکار کردیا

مریم نواز کا چین میں عالمی بگ ڈیٹا ایکسپو سے خطاب، پاکستان اور چین کے درمیان ’ڈیٹا کوریڈور‘ بنانے کی پیشکش

اے آئی کی مدد سے سائبر جرائم میں تیزی، روسی ہیکرز کی نئی کارروائی کا انکشاف

کینیڈا میں ٹرمپ ایونیو کا نام تبدیل ہونے کا امکان، ’ٹیکو ایونیو‘ سمیت مختلف نام زیرِ غور

محسن نقوی کا فیڈرل کانسٹیبلری ٹریننگ سینٹر شب قدر کا دورہ، اینٹی رائٹ ونگ کی تربیتی مشقوں کا معائنہ

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ