روسی سائبر جرائم پیشہ افراد نے رواں سال کے آغاز میں اسپیس ایکس سے منسلک مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کوڈنگ اسسٹنٹ کرسر (Cursor) کو استعمال کرتے ہوئے 7 کمپنیوں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا، جن میں بیلجیئم کی ایک کیمیکل کمپنی بھی شامل ہے۔
سائبر سیکیورٹی اسٹارٹ اپ گیمبٹ سیکیورٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور سائبر جرائم پیشہ گروہ بھی ان جدید ٹولز کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا بڑا انکشاف، ہیکرز کا اے آئی کے ذریعے ’خفیہ ترین‘ سائبر حملے کا منصوبہ ناکام
گیمبٹ کے چیف اسٹریٹیجی افسر کرٹس سمپسن نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہیکنگ گروہ اور دیگر شرپسند عناصر تجارتی اے آئی ٹولز کو سائبر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق سائبر جرائم پیشہ افراد کی صلاحیتیں بڑھنے کے ساتھ اے آئی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور حملہ آوروں کے درمیان ایک مسلسل مقابلہ جاری ہے، جس میں مجرم اے آئی پر عائد حفاظتی پابندیوں کو چکمہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
Russian-speaking hackers used SpaceX-owned Cursor’s AI agent to help breach at least 7 companies.
The group reportedly tricked the Anthropic-powered agent into treating the attacks as simulations, helping speed up break-ins by as much as 50%.
Source: Semafor pic.twitter.com/XzgrUoxGiZ
— Wall St Engine (@wallstengine) August 27, 2026
کرٹس سمپسن نے اسے ’بلی اور چوہے کا کھیل‘ قرار دیا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گیمبٹ نے ایک نئے رینسم ویئر گروہ ’اوراورا‘ کی سائبر مہم کا سراغ لگایا، ماہرین کو یہ گروہ ایک ایسے سرور کی موجودگی سے ملا جو انٹرنیٹ پر غیر محفوظ حالت میں موجود تھا۔
رپورٹ کے مطابق سائبر مجرموں نے خودکار اے آئی کوڈنگ ٹول کرسر کو مختلف نقصان دہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا، جن میں صارفین کی اسناد چرانا اور اکاؤنٹس پر قبضہ کرنا شامل تھا۔
مزید پڑھیں: ایرانی ہیکرز نے برطانوی پاور پلانٹ کو نشانہ بنا لیا، سائبر حملے کا انکشاف
گیم بِٹ کے مطابق کرسر کو اینتھروپک کے کلاڈ سونیٹ 4.5 ماڈل کی طاقت حاصل تھی۔
سائبر مجرموں نے اے آئی کو یہ جھوٹا یقین دلایا کہ ان کی سرگرمیاں ایک مجاز سیکیورٹی ٹیسٹ یا سمیولیشن کا حصہ ہیں۔
جب اے آئی نے بعض ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کیا تو ہیکرز نے گفتگو دوبارہ شروع کرکے ’ٹیسٹ‘ ہونے کا دعویٰ دہرایا، جس کے نتیجے میں اے آئی کی حفاظتی رکاوٹوں کو نظرانداز کیا جا سکا۔
مزید پڑھیں: امریکا میں سائبر حملے کا خدشہ، ہیکرز نے فیول اسٹوریج ٹینکوں کی ریڈنگ تبدیل کر دیں
گیمبٹ کے تھریٹ انٹیلیجنس ڈائریکٹر ایال سیلا کے مطابق کرسر جیسے ٹولز سائبر مجرموں کو متعدد کام تیزی سے انجام دینے میں مدد دے رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کی مدد سے ہیکرز وہ کام 30، 40 یا 50 فیصد زیادہ تیزی سے کر سکتے ہیں جو بصورت دیگر انہیں دستی طور پر انجام دینا پڑتے۔
لیک ہونے والی چیٹ لاگز کی بنیاد پر جن متاثرہ اداروں کی شناخت ہوئی، ان میں اسکاٹ لینڈ کی ہیلی ڈیک سرٹیفیکیشن ایجنسی، جرمنی کی ٹیکن ٹرپ، بیلجیئم کی کرائسٹینز، اٹلی کی ایک مینوفیکچرنگ کمپنی، ارجنٹائن کی ایک دوا ساز ڈسٹری بیوٹر کمپنی اور امریکی ریاست لوزیانا کی بےاو ٹائلز شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں کرسر کو ایک معاہدے کے تحت ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے نظام میں بھی شامل کیا گیا تھا۔














