وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بتایا ہے کہ وزیراعظم کی ایرانی صدر سے گزشتہ روز گفتگو ہوئی اور اسی سلسلے میں وہ سعودی عرب بھی گئے۔ مشیر کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ سعودی عرب اور ایرانی صدر سے ہونے والی بات چیت کے بعد معاملات میں بہتری آئے گی اور خطے میں تناؤ کم ہوگا۔
نجی ٹیلیویژن کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایران کسی بھی صورت مسلمان ممالک، خاص طور پر سعودی عرب کو ہدف نہ بنائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی قیادت پوری طرح مسلم ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور سعودی عرب کے ساتھ ہمارے دفاعی معاہدے کی پابندی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خطے میں جنگ کے اثرات: سعودی عرب نے شپنگ کے لیے نیا تجارتی راستہ متعارف کرا دیا
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی پالیسی ہے کہ وہ خود فوری ردعمل نہیں دیتا، لہٰذا اگر سعودی عرب کوئی ری ایکٹ نہیں کر رہا تو دوسرے سے بھی ایسی توقع رکھنا مناسب نہیں۔
خیال رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا، اور گزشتہ روز وزیراعظم ایک روزہ دورے پر سعودی عرب گئے، جہاں انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
گورنر سندھ کی تبدیلی اور ایم کیو ایم کا موقف
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ طے ہوا تھا کہ بلوچستان اور سندھ کے گورنر ن لیگ سے ہوں گے، اور ایم کیو ایم سے کبھی وعدہ نہیں کیا گیا تھا کہ سندھ کا گورنر ایم کیو ایم کا ہوگا۔ کامران ٹیسوری نگراں حکومت میں مقرر ہوئے تھے اور جب معاملات ٹھیک چل رہے تھے تو فوری تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ تاہم حالیہ حالات کے پیش نظر گورنر سندھ کو تبدیل کرنا مناسب سمجھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:صدر مملکت کی نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری، کامران ٹیسوری کا فون، مبارکباد
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ گورنر کی تبدیلی پر بات چیت معمول کے طریقے اور سلیقے سے کی گئی، اور ایم کیو ایم کے کراچی سے متعلق مطالبات کو پورا کیا گیا ہے۔ جب طے ہوا کہ گورنر ن لیگ سے ہوگا تو ایم کیو ایم نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔














