مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے احاطے تک رسائی محدود کیے جانے کے باعث فلسطینی مسلمانوں نے جمعہ کی نماز قدیم شہر کے اطراف سڑکوں اور داخلی دروازوں کے قریب ادا کی۔
رمضان المبارک کے آخری جمعہ کے موقع پر عائد اس پابندی کے باعث مسجد اقصیٰ کا احاطہ تقریباً خالی رہا جبکہ ہزاروں نمازیوں کو روایتی عبادات کے لیے اندر جانے کی اجازت نہ مل سکی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت
رپورٹس کے مطابق نمازیوں کی بڑی تعداد قدیم شہر کی فصیل کے قریب اور مسجد اقصیٰ کے دروازوں کے باہر جمع ہو کر نماز ادا کرتی رہی۔
اسرائیلی حکام نے جاری اسرائیل۔ایران کشیدگی کے تناظر میں سیکیورٹی خدشات کا جواز پیش کرتے ہوئے مسجد کے احاطے کو بند رکھا، جس کے باعث ہزاروں افراد رمضان کی روایتی عبادات ادا کرنے سے محروم رہے۔
🚨 Al-Aqsa Mosque has been shut for 14 days, including the final Friday of Ramadan.
Palestinians prayed at the nearest point they could reach outside the mosque. pic.twitter.com/gzGjRFiPut
— Muslim (@Muslim) March 13, 2026
عینی شاہدین کے مطابق پابندیاں غیر معمولی حد تک سخت تھیں اور نمازیوں کو مسجد اقصیٰ کے دروازوں کے قریب ترین ممکنہ مقامات پر ہی نماز ادا کرنا پڑی۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے کے آغاز سے ان پابندیوں کے باعث ہزاروں نمازیوں کی مسجد اقصیٰ آمد محدود ہو گئی ہے، حالانکہ ماضی میں رمضان کے دوران خصوصاً یوم القدس کے موقع پر جمعہ کی نمازمیں بڑی تعداد میں مسلمان یہاں جمع ہوتے تھے۔
مزید پڑھیں: ماہ رمضان کے دوران غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے، پاکستان کا مطالبہ
نمازیوں کی بڑی تعداد باب الساہرہ کے قریب قابلِ رسائی مقامات پر مغرب، عشا اور تراویح کی نماز ادا کر رہی ہے، مقامی رہائشیوں کے مطابق مسجد کے اندر عبادت نہ کر پانا لوگوں کے لیے شدید جذباتی صدمے کا باعث ہے۔
تاہم وہ مسجد اقصیٰ سے اپنا روحانی تعلق برقرار رکھنے کے لیے اس کے قریب ہی نماز ادا کر رہے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اہلکاروں نے متعدد مواقع پر نمازیوں کی تلاشی لی، بعض کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کئی افراد کو قدیم شہر یا مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا۔
ادھر القدس وقف حکام کے مطابق اسرائیلی اداروں نے رمضان سے قبل وقف کے چند ملازمین کو حراست میں لے لیا جبکہ درجنوں اہلکاروں اور بعض ائمہ کو مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روک دیا گیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت
عرب اور اسلامی ممالک نے مسجد اقصیٰ کی بندش اور عبادت گزاروں کی رسائی پر پابندیوں کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے فوری طور پر یہ اقدامات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے حوالے سے انتہا پسند آبادکار تنظیموں کی اشتعال انگیز سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔














