آسٹریلوی تاجر چینی جاسوسوں کو معلومات دینے کے جرم میں قصوروار قرار

ہفتہ 14 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

الیگزینڈرسیسرگو نامی ایک آسٹریلوی کاروباری شخصیت کو سڈنی کی عدالت نے 2 ایسے افراد کو معلومات فراہم کرنے کا مجرم قرار دیا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ چینی جاسوس تھے۔

59 سالہ سیسرگو کو غیر ملکی مداخلت کے معاملے میں لاپرواہی برتنے کا قصوروار ٹھہرایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’مجھے لوٹ لیا گیا‘، وسیم اکرم کے ساتھ آسٹریلیا میں کیا واردات ہوئی؟

انہوں نے 2021  سے 2023 کے درمیان شنگھائی میں کین اور ایولین کے نام سے جاننے والے 2 افراد کے لیے مختلف رپورٹس تیار کی تھیں، اس جرم پر انہیں زیادہ سے زیادہ 15 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

استغاثہ کے مطابق سیسرگو کو شبہ تھا کہ یہ دونوں افراد چین کی خفیہ ایجنسی ریاستی سلامتی کی وزارت سے وابستہ ہیں، مگر پھر بھی انہوں نے انہیں معلومات فراہم کیں۔

دفاعی وکلا کا مؤقف تھا کہ سیسرگو نے صرف عوامی طور پر دستیاب معلومات دی تھیں، جبکہ بعض رپورٹس میں فرضی حوالہ جات شامل کرتے ہوئے سابق آسٹریلوی وزیر اعظم کیون رُڈ  سمیت ایسے افراد کے نام بھی استعمال کیےگئے، جن کا اس نے کبھی انٹرویو ہی نہیں کیا تھا۔

سیسرگو شنگھائی میں ایک بزنس کے مالک ہیں، استغاثہ کے مطابق اس سے پہلی بار ایک خاتون نے پیشہ ورانہ رابطوں کی ویب سائٹ لنکڈان کے ذریعے رابطہ کیا اور خود کو ایک تھنک ٹینک کی ملازم بتایا۔

مزید پڑھیں: برطانوی شاہی خاندان کی سابق رکن سارہ فرگوسن آسٹریلیا جانے کی خواہشمند لیکن سانپوں کا خوف آڑے

اسی خاتون نے بعد میں اسے کین اور ایولین سے ملوایا اور کہا کہ ان کے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں کاروبار ہیں۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ سیسرگو ان افراد کو رپورٹس دے کر نقد رقم لیتا تھا اور یہ ملاقاتیں اکثر خالی کیفوں یا ریستورانوں میں ہوتی تھیں۔

کین اور ایولین نے سیسرگو کو مختلف موضوعات پر رپورٹس تیار کرنے کے لیے ایک ’شاپنگ لسٹ‘ بھی دی تھی، جب وہ 2023 میں آسٹریلیا واپس آئے تو حکام نے ان کے بونڈآئی میں واقع گھر کی تلاشی لی اور یہ فہرست برآمد کی، تاہم سیسرگو نے کہا کہ اس نے اس فہرست کو استعمال نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرلیا

الیگزینڈر سیسرگو کو لیتھیم کان کنی، جرمن حکومت، اور کواڈلیٹرل سیکیورٹی ڈائیلاگ، کواڈ اتحاد جیسے موضوعات پر رپورٹس مرتب کرنے کا کہا گیا، کواڈ امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے درمیان ایک غیر فوجی شراکت داری ہے۔

الیگزینڈر سیسرگو کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس نے کسی کو قومی راز فراہم کیے۔ استغاثہ کے مطابق کین اور ایولین کے لیے سب سے قیمتی چیز الیگزینڈر سیسرگو کے روابط تھے، تاہم وکیل کے مطابق سیسرگو کے پاس درحقیقت ایسے کوئی خاص روابط موجود نہیں تھے۔

مزید پڑھیں:آسٹریلیا: اسکول میں فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

’اس نے دراصل کسی کا انٹرویو نہیں کیا، اس بارے میں وہ جھوٹ بولتا رہا، اس نے کسی کو کسی تک رسائی نہیں دی کیونکہ دینے کے لیے اس کے پاس کوئی رابطہ ہی نہیں تھا۔‘

ماہرین کے مطابق لیتھیم کان کنی سے متعلق اس کی ایک رپورٹ میں موجود کچھ معلومات ک ’بے معنی اور غیر واضح‘ قرار دیا گیا۔

استغاثہ نے یہ بھی بتایا کہ الیگزینڈر سیسرگو نے کین کے ساتھ وی چیٹ پر تقریباً 2800 پیغامات کا تبادلہ کیا اور دونوں کے درمیان قریبی پیشہ ورانہ تعلق قائم ہو گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

بنگلہ دیش: جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان

عیدالفطر کب ہوگی؟ محکمہ موسمیات کی چاند کی پیدائش سے متعلق نئی پیشگوئی

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے