الیگزینڈرسیسرگو نامی ایک آسٹریلوی کاروباری شخصیت کو سڈنی کی عدالت نے 2 ایسے افراد کو معلومات فراہم کرنے کا مجرم قرار دیا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ چینی جاسوس تھے۔
59 سالہ سیسرگو کو غیر ملکی مداخلت کے معاملے میں لاپرواہی برتنے کا قصوروار ٹھہرایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’مجھے لوٹ لیا گیا‘، وسیم اکرم کے ساتھ آسٹریلیا میں کیا واردات ہوئی؟
انہوں نے 2021 سے 2023 کے درمیان شنگھائی میں کین اور ایولین کے نام سے جاننے والے 2 افراد کے لیے مختلف رپورٹس تیار کی تھیں، اس جرم پر انہیں زیادہ سے زیادہ 15 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
استغاثہ کے مطابق سیسرگو کو شبہ تھا کہ یہ دونوں افراد چین کی خفیہ ایجنسی ریاستی سلامتی کی وزارت سے وابستہ ہیں، مگر پھر بھی انہوں نے انہیں معلومات فراہم کیں۔
Australian businessman found guilty of working for suspected Chinese spies https://t.co/kWWEY2PO1E
— BBC News (World) (@BBCWorld) March 13, 2026
دفاعی وکلا کا مؤقف تھا کہ سیسرگو نے صرف عوامی طور پر دستیاب معلومات دی تھیں، جبکہ بعض رپورٹس میں فرضی حوالہ جات شامل کرتے ہوئے سابق آسٹریلوی وزیر اعظم کیون رُڈ سمیت ایسے افراد کے نام بھی استعمال کیےگئے، جن کا اس نے کبھی انٹرویو ہی نہیں کیا تھا۔
سیسرگو شنگھائی میں ایک بزنس کے مالک ہیں، استغاثہ کے مطابق اس سے پہلی بار ایک خاتون نے پیشہ ورانہ رابطوں کی ویب سائٹ لنکڈان کے ذریعے رابطہ کیا اور خود کو ایک تھنک ٹینک کی ملازم بتایا۔
مزید پڑھیں: برطانوی شاہی خاندان کی سابق رکن سارہ فرگوسن آسٹریلیا جانے کی خواہشمند لیکن سانپوں کا خوف آڑے
اسی خاتون نے بعد میں اسے کین اور ایولین سے ملوایا اور کہا کہ ان کے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں کاروبار ہیں۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ سیسرگو ان افراد کو رپورٹس دے کر نقد رقم لیتا تھا اور یہ ملاقاتیں اکثر خالی کیفوں یا ریستورانوں میں ہوتی تھیں۔
کین اور ایولین نے سیسرگو کو مختلف موضوعات پر رپورٹس تیار کرنے کے لیے ایک ’شاپنگ لسٹ‘ بھی دی تھی، جب وہ 2023 میں آسٹریلیا واپس آئے تو حکام نے ان کے بونڈآئی میں واقع گھر کی تلاشی لی اور یہ فہرست برآمد کی، تاہم سیسرگو نے کہا کہ اس نے اس فہرست کو استعمال نہیں کیا۔
مزید پڑھیں: برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرلیا
الیگزینڈر سیسرگو کو لیتھیم کان کنی، جرمن حکومت، اور کواڈلیٹرل سیکیورٹی ڈائیلاگ، کواڈ اتحاد جیسے موضوعات پر رپورٹس مرتب کرنے کا کہا گیا، کواڈ امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے درمیان ایک غیر فوجی شراکت داری ہے۔
الیگزینڈر سیسرگو کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس نے کسی کو قومی راز فراہم کیے۔ استغاثہ کے مطابق کین اور ایولین کے لیے سب سے قیمتی چیز الیگزینڈر سیسرگو کے روابط تھے، تاہم وکیل کے مطابق سیسرگو کے پاس درحقیقت ایسے کوئی خاص روابط موجود نہیں تھے۔
مزید پڑھیں:آسٹریلیا: اسکول میں فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
’اس نے دراصل کسی کا انٹرویو نہیں کیا، اس بارے میں وہ جھوٹ بولتا رہا، اس نے کسی کو کسی تک رسائی نہیں دی کیونکہ دینے کے لیے اس کے پاس کوئی رابطہ ہی نہیں تھا۔‘
ماہرین کے مطابق لیتھیم کان کنی سے متعلق اس کی ایک رپورٹ میں موجود کچھ معلومات ک ’بے معنی اور غیر واضح‘ قرار دیا گیا۔
استغاثہ نے یہ بھی بتایا کہ الیگزینڈر سیسرگو نے کین کے ساتھ وی چیٹ پر تقریباً 2800 پیغامات کا تبادلہ کیا اور دونوں کے درمیان قریبی پیشہ ورانہ تعلق قائم ہو گیا تھا۔













