گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر ہاؤس کا آڈٹ کروائیں گے اور یہاں ہونے والے تمام اخراجات عوام کے سامنے رکھیں گے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ کوئی غلط کام کریں تو عوام اور میڈیا کھل کر تنقید کریں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ جس مقام پر وہ آج بیٹھے ہیں وہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی قربانیوں کا نتیجہ ہے اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کی نمائندگی کریں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اور کراچی کے بارے میں منفی بات نہیں کی جانی چاہیے بلکہ شہر اور صوبے کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: صوبہ سندھ کے نئے گورنر نہال ہاشمی کون ہیں؟
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف ہمیشہ تعمیری سوچ دیتے ہیں اور وہ پاکستان کے لیے جیل جا سکتے ہیں لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں کسی کارروائی یا کراچی میں امن کے قیام کی بات ہو تو سب سے پہلے نواز شریف ہی آگے آتے ہیں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ شہباز شریف کا طرزِ حکمرانی کام، کام اور صرف کام پر مبنی ہے اور اسی وجہ سے ان کا شمار دنیا کے بڑے رہنماؤں میں ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کو بھی کراچی میں لایا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: گورنر سندھ نہال ہاشمی مزار قائد پر کسی اور سے تاثرات قلمبند کراتے رہے، ویڈیو وائرل
نہال ہاشمی نے کہا کہ گورنر ہاؤس سب کا گھر ہے اور وہ یہاں صرف ایک نگراں کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس کی موجودہ حالت سب کے سامنے ہے، اسے دوبارہ آباد کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں کی کرسیوں اور دیگر سامان کی حالت بھی بہتر بنائی جائے گی اور تمام امور شفاف طریقے سے انجام دیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ گورنر ہاؤس میں مستحق افراد کے لیے سحری اور افطار کا انتظام بھی کیا جائے گا اور کل سے ضرورت مند افراد یہاں آ کر سحری و افطار کر سکیں گے۔
مزید پڑھیں: گورنر نہال ہاشمی سے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی ملاقات، صوبے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ طلبہ کے لیے وہی اقدامات متعارف کروائے جائیں گے جو نواز شریف نے کیے تھے اور تعلیم کے معاملے میں کسی قسم کا پروپیگنڈا نہیں کیا جائے گا۔
’اگر 6 ماہ کا کورس ہوگا تو 6 ماہ میں ہی ڈگری دی جائے گی۔‘
نہال ہاشمی نے کہا کہ وہ خود کو پہلے ایک سیاسی کارکن سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں سیاسی کارکن ہی رہنے دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ اور کراچی قائم و دائم رہیں گے اور ترقی کا کارواں آگے بڑھتا رہے گا۔














