سابق کپتان شاہد آفریدی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے حالیہ فیصلوں اور سلیکشن کے طریقۂ کار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل ‘سرجری’ ٹیم کی نہیں بلکہ سلیکشن کمیٹی کی ہونی چاہیے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ٹیم کی کارکردگی سب کے سامنے تھی اور اس کے بعد بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں بھی پاکستان کو 2-1 سے شکست ہوئی، جس کے بعد کیے گئے فیصلوں پر سوال اٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ اس صورتحال پر سلیکشن کمیٹی کو افسوس کرنا چاہیے کیونکہ ٹیم کے انتخاب میں درست سمت نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیے: چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے سلیکشن کمیٹی کو مکمل فری ہینڈ دیدیا
انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کو اس بات کا واضح اندازہ نہیں کہ کس کھلاڑی کو کس فارمیٹ میں کپتان بنانا چاہیے، بلکہ جلد بازی میں فیصلے کر لیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ‘سرجری’ کے نام پر سینئر کھلاڑیوں کو باہر بٹھا دیا گیا حالانکہ ان میں سے کئی کی ون ڈے کرکٹ میں بہت اچھی کارکردگیاں موجود تھیں۔
— Shahid Afridi (@SAfridiOfficial) March 15, 2026
شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس چند ایسے نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا گیا جنہوں نے مشکل سے چند ڈومیسٹک یا فرسٹ کلاس میچز کھیلے تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار ہی اس سطح کا نہیں تو ایسے کھلاڑی اچانک قومی ٹیم میں آ کر کس طرح جگہ مضبوط کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ٹیم کی کیپ دینا کوئی حل نہیں اور نہ ہی اسے سرجری کہا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول اگر واقعی بہتری لانا ہے تو اصل سرجری سلیکشن کمیٹی کے نظام میں ہونی چاہیے۔














