پاکستان نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے اس دعوے میں کوئی حقیقت نہیں کہ افواج پاکستان نے کارروائی کے دوران اسپتال کو نشانہ بنایا ہے۔
وزارت اطلاعات نے طالبان نے طالبان ترجمان کے دعوے کو جھوٹا اور عوام کو گمراہ کرنے والا قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
🔎 Fact Check | Ministry of Information and Broadcastingl
Above claim of this discredited so called spokesperson of Taliban regime is another misreporting of facts aimed at misleading public opinion.
◼️On night 16 March, Pakistan precisely targeted military installations and… pic.twitter.com/tscodXatzH
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) March 16, 2026
وزارت اطلاعات کے مطابق 16 مارچ کی شب پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی کی۔
بیان کے مطابق کارروائی اس جگہ پر کی گئی جہاں ان کے عسکری ٹھکانے، تکنیکی سازوسامان اور گولہ بارود کے ذخائر شامل تھے، جو پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔ کارروائی کے بعد ذخیرہ شدہ گولہ بارود کے دھماکے نے بھی اس جھوٹے دعوے کا پول کھول دیا ہے۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں بالکل درست اور ہدف کے مطابق کی جاتی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کا غیر ضروری نقصان نہ ہو۔
بیان میں کہا گیا کہ اس مبینہ دعوے میں دہشتگرد مراکز کو منشیات کے علاج کے ادارے کے طور پر پیش کرکے عوامی جذبات ابھارنے کی کوشش کی گئی، تاکہ سرحد پار دہشتگردی کے لیے کی جانے والی غیر قانونی حمایت کو چھپایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: پاک افغان کشیدگی: پاکستان کی فوجی طاقت کے مقابلے میں کابل کے پاس کونسے آپشنز باقی ہیں؟
واضح رہے کہ افواج پاکستان کا افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے، اور اب تک سینکڑوں دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں۔














