پاکستان میں 5 جی اسپیکٹرم نیلامی کا دوسرا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد حکومت کو 510 ملین ڈالر ریونیو حاصل ہوا۔
واضح رہے کہ یہ پاکستان میں جدید موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
مزید پڑھیں: 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا دوسرا مرحلہ مکمل
یاد رہے کہ دوسرے مرحلے میں ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے 2600 میگا ہرٹز اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز کی پوزیشننگ کے لیے بولیاں لگائی گئیں۔
پی ٹی اے کے چیئرمین حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ 2600 میگا ہرٹز بینڈ کی پوزیشننگ کے لیے بولی 3 راؤنڈز میں مکمل ہوئی جبکہ 3500 میگا ہرٹز بینڈ کی پوزیشننگ کے لیے بولی 5 راؤنڈز تک جاری رہی، جس میں کمپنیوں کی جانب سے اپنی پوزیشنز کو منتخب کیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق 5 جی اسپیکٹرم نیلامی کے پہلے اور دوسرے مرحلے سے مجموعی طور پر 510 ملین ڈالر ریونیو حاصل ہوا ہے جو پاکستانی روپے میں قریباً 142 ارب روپے بنتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 10 مارچ کو ہونے والی نیلامی کے دوران مجموعی طور پر 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فروخت کیا گیا جو عالمی سطح پر ہونے والی بڑی اسپیکٹرم نیلامیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں عیدالفطر پر 5G سروس کی آزمائشی فراہمی کا امکان
دوسری جانب وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہاکہ اسپیکٹرم ایلوکیشن کا مرحلہ پہلے ہی مکمل کیا جا چکا تھا جس کے دوران قریباً 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی خریداری کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ 5 جی ٹیکنالوجی پاکستان کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرےگی اور اس کے ذریعے ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا۔
حکومت نے اسپیکٹرم نیلامی کا عمل مکمل کرکے اپنی ذمہ داری ادا کر دی، نوید بٹ
اس موقع پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کے نمائندے نوید بٹ نے کہاکہ حکومت نے اسپیکٹرم نیلامی کا عمل مکمل کرکے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے، اب ٹیلی کام کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صارفین کو بہتر اور معیاری خدمات فراہم کریں۔
ان کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں نے اس آکشن میں بھرپور دلچسپی ظاہر کی ہے جس سے توقع ہے کہ ملک میں ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔

پی ٹی اے حکام کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں اس نوعیت کی اتنی بڑی اسپیکٹرم نیلامی اس سے پہلے نہیں ہوئی۔ اس آکشن کے پہلے مرحلے میں کل 597 میگا ہرٹز میں سے 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فروخت ہوا تھا۔
حکام کے مطابق 2300 اور 2600 میگا ہرٹز بینڈز کے تمام لاٹس فروخت ہو چکے ہیں جبکہ 3500 میگا ہرٹز کے 28 لاٹس میں سے 22 لاٹس خریداروں کو الاٹ کیے گئے۔
یاد رہے کہ اس نیلامی میں پاکستان کی تین بڑی موبائل کمپنیوں نے حصہ لیتے ہوئے اسپیکٹرم حاصل کیا جن میں جاز، زونگ اور یوفون شامل ہیں۔ نیلامی کے نتائج کے مطابق جاز نے 190 میگا ہرٹز، یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا 5G اسپیکٹرم کے لائسنس کے اجرا پر اظہار تشکر
ماہرین کے مطابق 5 جی اسپیکٹرم نیلامی کا بنیادی مقصد ملک میں جدید ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کو فروغ دینا اور صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے۔
پاکستان میں آخری بار 3 جی اور 4 جی اسپیکٹرم کی نیلامی 2013 اور 2014 میں کی گئی تھی جبکہ اس کے بعد موبائل انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔
آئی ٹی ماہرین کے مطابق 5 جی ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے سے نہ صرف موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ ہوگا، بلکہ ڈیجیٹل سروسز، ای کامرس اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

نیلامی مکمل ہونے کے بعد کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے جائیں گے اور چند ماہ کے اندر ملک کے بڑے شہروں میں مرحلہ وار بنیادوں پر 5 جی سروسز کا آغاز کیا جا سکے گا۔
پاکستان میں 5 جی نیٹ ورک کے متعارف ہونے سے انٹرنیٹ کی کارکردگی اور صارف کے تجربے میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
5 جی نیٹ ورک 4 جی کے مقابلے میں کئی گنا بہترہ ہے، ڈاکٹر اسد علی
ٹیکنالوجی ایکسپرٹ ڈاکٹر اسد علی کے مطابق 5 جی کی سب سے بڑی خصوصیت اعلیٰ بینڈوتھ، کم لیٹنسی اور زیادہ کنکشن کی صلاحیت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صارفین نہ صرف تیز رفتار انٹرنیٹ حاصل کریں گے بلکہ آن لائن گیمز، ویڈیو کالز اور ہائی ریزولوشن اسٹریمز میں لیٹنسی ایک سیکنڈ سے بھی کم محسوس ہوگی، جو 4 جی نیٹ ورک کے مقابلے میں کئی گنا بہتر ہے۔
ڈاکٹر اسد علی نے بتایا کہ 5 جی نیٹ ورک مختلف فریکوئنسی بینڈز استعمال کرتا ہے جن میں کم بینڈوتھ سے لے کر میڈیم اور ہائی بینڈوتھ شامل ہیں، جس سے نیٹ ورک کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور ایک ہی وقت میں زیادہ صارفین کو مستحکم کنیکٹیویٹی فراہم کی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا اثر یہ ہوگا کہ شہری علاقوں میں ہائی ڈیمانڈ ڈیٹا سروسز استعمال کرنے کے دوران بھی رفتار متاثر نہیں ہوگی، جبکہ دیہی اور کم نیٹ ورک والے علاقوں میں سروس کی دستیابی میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ 5 جی صرف تیز رفتار انٹرنیٹ کا ذریعہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل ایپلیکیشنز، انڈسٹری 4.0، آٹونومس گاڑیاں، سمارٹ شہروں اور آئی او ٹی ڈیوائسز کے لیے بھی بنیادی ستون فراہم کرے گا۔ 5 جی کی اعلیٰ بینڈوتھ اور کم لیٹنسی کی بدولت سینسرز اور کنٹرول سسٹمز زیادہ مؤثر طریقے سے ڈیٹا ایکسچینج کر سکیں گے، جس سے نہ صرف صنعتی عمل بلکہ شہری انفراسٹرکچر بھی زیادہ خودکار اور قابلِ اعتماد بن جائے گا۔

ڈاکٹر اسد علی کے مطابق پاکستان میں 5 جی کا نفاذ اقتصادی ترقی، ڈیجیٹل ایجوکیشن، ای ہیلتھ سروسز اور ہائی ٹیک سروسز کے فروغ کے لیے بھی اہم ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ صارفین کو نہ صرف تیز اور مستحکم انٹرنیٹ کی سہولت ملے گی بلکہ ملک کے ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری آئے گی، جس سے کاروبار، تعلیم اور حکومت کی سروسز ڈیجیٹل بنیادوں پر زیادہ مؤثر طریقے سے چل سکیں گی۔
تیز رفتار انٹرنیٹ سروس وقت کی ضرورت ہے، طفیل احمد
ملک میں انٹرنیٹ کی بہتری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے گلوبل فری لانسرز یونین کے اعزازی صدر طفیل احمد خان نے کہاکہ پاکستان میں معیاری اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی فری لانسنگ، ای کامرس اور دیگر آن لائن شعبوں کی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں انٹرنیٹ کا نظام بہتر اور مستحکم ہو جائے تو اس سے نہ صرف فری لانسرز بلکہ طلبہ اور نوجوانوں کو بھی بے شمار مواقع حاصل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کے بعد بِٹ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں ہوگی، پی ٹی اے
طفیل احمد خان نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں فری لانسنگ کے شعبے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث آئی ٹی ایکسپورٹس اور بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ بہت سے طلبہ اور نوجوان اب فری لانسنگ کو ایک باقاعدہ پیشے کے طور پر اختیار کر رہے ہیں، تاہم اگر انہیں انٹرنیٹ کی رفتار اور تسلسل کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے تو اس شعبے کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور 5 جی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی پیش رفت ہو رہی ہے، جو خوش آئند ہے۔

ان کے مطابق چینی کمپنیوں سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ انٹرنیٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہونے والی کوششوں کو مزید تیز کیا جانا چاہیے۔
طفیل احمد خان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں عالمی معیار کا انٹرنیٹ دستیاب ہو جائے تو فری لانسنگ، ای کامرس، یوٹیوب آٹومیشن اور دیگر آن لائن کاروباروں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ افراد بھی فائدہ اٹھائیں گے جو موبائل ڈیٹا کے ذریعے روزگار حاصل کرتے ہیں، جیسے مختلف ایپس کے رائیڈرز اور کیپٹن۔ جس سے پاکستان کی اکانومی کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا، اور ملک ترقی کرے گا۔
انہوں نے کہاکہ بہتر انٹرنیٹ سہولیات سے نہ صرف آئی ٹی ایکسپورٹس اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے افراد کی آمدنی میں بھی بہتری آئے گی۔
5 جی ٹیکنالوجی کی بدولت انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں بہتری آئے گی
ان کا کہنا تھا کہ 5 جی ٹیکنالوجی کی بدولت انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں بہتری آئے گی جس سے فری لانسنگ، آئی ٹی سروسز، ای کامرس اور آن لائن کاروباروں کو مزید وسعت مل سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں اور طلبہ کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنے کے مواقع میں اضافہ ہوگا، جس سے ملک میں روزگار کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
پاکستان اس وقت تیزی سے ڈیجیٹائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے، مہتاب حیدر
دوسری جانب اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اکانومی امور پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت تیزی سے ڈیجیٹائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس عمل میں بہتر انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔
ان کے مطابق اسپیکٹرم کی حالیہ نیلامی سے ملک میں فور جی اور آئندہ فائیو جی سروسز کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جس سے ابتدائی طور پر بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔

مہتاب حیدر کے مطابق اس پیش رفت کا فائدہ نہ صرف حکومت بلکہ تینوں فریقوں کو ہوگا۔ ایک طرف اسپیکٹرم نیلامی کے ذریعے حکومت کو ملین ڈالرز کی آمدن حاصل ہوئی ہے جو قومی خزانے میں نان ٹیکس ریونیو کے طور پی ٹی اے کو جمع کروائے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنی سروسز کو بہتر بنانے اور صارفین کو جدید سہولیات فراہم کرنے کا موقع ملے گا۔
ایک مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مجموعی بجٹ تقریبا 16 یا 17 ٹریلین ڈالرز کا ہے، تو اس اعتبار سے اگرچہ یہ رقم مجموعی قومی بجٹ کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے، لیکن اس کا اصل فائدہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، بہتر کنیکٹیویٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی صورت میں سامنے آئے گا، اس لیے اس کو پیسوں کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔
آج کے دور میں انٹرنیٹ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے
ان کے مطابق آج کے دور میں انٹرنیٹ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اسے صرف تفریح تک محدود رکھنے کے بجائے معاشی سرگرمیوں، تعلیم، کاروبار اور ویلیو ایڈیشن کے لیے استعمال کیا جائے۔
مہتاب حیدر کے نزدیک اگر پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بناتا ہے تو اس سے نہ صرف معیشت کو استحکام ملے گا بلکہ ملک میں ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کے بھی وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:5G اسپیکٹرم نیلامی کی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کا فیصلہ
یاد رہے کہ طویل تاخیر اور کئی بار مؤخر ہونے کے بعد یہ عمل پاکستان میں جدید موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا تھا۔
ملک میں 5 جی سروس متعارف کرانے کی تیاری کئی برسوں سے جاری تھی، حکومتی سطح پر پہلی بار باقاعدہ طور پر 2022 میں 5 جی اسپیکٹرم کی جلد نیلامی کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس وقت کی حکومت نے ابتدائی ہدف دسمبر 2022 مقرر کیا تھا، تاہم مختلف انتظامی اور پالیسی مسائل کے باعث یہ منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو سکا۔
بعد ازاں 2023 میں دوبارہ اعلان کیا گیا کہ جولائی 2023 تک 5 جی کے لیے اسپیکٹرم نیلامی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا، مگر یہ ڈیڈ لائن بھی پوری نہ ہو سکی۔

اسی طرح اگست 2024 میں نگراں حکومت کے دوران بھی 5 جی متعارف کرانے کا عندیہ دیا گیا، لیکن اس حوالے سے عملی پیش رفت نہ ہو سکی اور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہو گیا۔
حکام کے مطابق تاخیر کی بڑی وجوہات میں اسپیکٹرم سے متعلق قانونی تنازعات، پالیسی منظوری میں تاخیر اور ٹیلی کام سیکٹر کے کچھ مالی و ریگولیٹری مسائل شامل رہے۔
خاص طور پر 2600 میگا ہرٹز بینڈ کے ایک بڑے حصے پر قانونی مقدمات کے باعث نیلامی ممکن نہیں تھی، جس کی وجہ سے منصوبہ کئی مرتبہ مؤخر کرنا پڑا۔

اس کے علاوہ حکومت کو ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ قیمتوں، لائسنس شرائط اور مارکیٹ کی تیاری کے حوالے سے بھی مشاورت درکار تھی۔
اسی مقصد کے لیے 2024 میں ایک بین الاقوامی کنسلٹنسی فرم کی خدمات بھی حاصل کی گئیں تاکہ نیلامی کے طریقہ کار اور قیمتوں کے تعین سے متعلق سفارشات تیار کی جا سکیں۔
مزید پڑھیں: یوفون، اونک اور ٹیلی نار 5 جی سروسز فراہمی کے لیے تیار، اسپیکٹرم حاصل کرلیا
ان تمام رکاوٹوں کے باعث پاکستان میں 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی قریباً 4 برس تک تاخیر کا شکار رہی اور مختلف اوقات میں اس کی ڈیڈ لائن کئی مرتبہ تبدیل یا مؤخر کی گئی۔
یاد رہے کہ ملک میں 1987 سے اب تک صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم استعمال ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے نیٹ ورک کی رفتار اور معیار پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔














