صوبہ سندھ کی سیاست میں حالیہ دنوں میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے، جس نے صوبے کے سیاسی منظرنامے کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ وفاقی حکومت نے کامران ٹیسوری کو ہٹا کر مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما نہال ہاشمی کو سندھ کا نیا گورنر مقرر کیا ہے، جنہوں نے 13 مارچ 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔
گورنر ہاؤس کے عوامی پروگراموں کا خاتمہ
سابق گورنر کامران خان ٹیسوری کے دور میں گورنر ہاؤس عوامی مرکز بن چکا تھا، جہاں آئی ٹی کورسز، مفت راشن کی تقسیم اور دسترخوان جیسے منصوبے چل رہے تھے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، کامران ٹیسوری کے جاتے ہی گورنر ہاؤس میں جاری آئی ٹی ٹریننگ پروگرام کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور وہاں موجود سامان بھی ہٹا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے نہال ہاشمی کو گورنر سندھ کس نے بنوایا؟
نئے گورنر نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ان پروگراموں کو وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے تحت وفاقی سطح پر ضم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
گورنر کی تبدیلی نے وفاقی اتحاد میں شامل ایم کیو ایم پاکستان (MQM-P) اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں (وسیم اختر اور فاروق ستار) نے اس فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے یکطرفہ فیصلہ قرار دیا ہے۔
ان کا موقف ہے کہ گورنر سندھ کا عہدہ روایتی طور پر ان کا حق تھا اور انہیں اعتماد میں لیے بغیر یہ تبدیلی کی گئی۔
فاروق ستار نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد ایم کیو ایم کے لیے وفاقی حکومت میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، جس سے سندھ بالخصوص کراچی کی سیاست میں ایک بار پھر بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار ارمان صابر کا کہنا ہے کہ کامران ٹیسوری کی برطرفی کے پیچھے پیپلز پارٹی کا دباؤ تھا۔ نئے گورنر نہال ہاشمی کی حلف برداری میں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ اب گورنر ہاؤس اور سی ایم ہاؤس کے درمیان وہ کشیدگی کم ہو جائے گی جو سابقہ دور میں نظر آتی تھی۔
تجزیہ کار رفعت سعید کے مطابق کراچی کے کچھ حلقوں میں یہ بحث بھی عام ہے کہ حالیہ تبدیلی کا تعلق شہر کے کچھ انتظامی اور زمینوں کے معاملات سے بھی ہو سکتا ہے، جس میں گُل پلازہ اور دیگر تجارتی معاملات کا ذکر بھی آ رہا ہے، جن پر سابق گورنر اور دیگر مقتدر حلقوں کے درمیان مبینہ اختلافات تھے۔
یہ بھی پڑھیے ’محاذ آرائی کی سیاست نہیں کریں گے‘، نہال ہاشمی نے گورنر سندھ کا حلف اٹھالیا
نہال ہاشمی کے آنے سے گورنر ہاؤس کی سیاسی سرگرمیاں تو کم ہو سکتی ہیں، لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم، اگر ایم کیو ایم نے حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تو کراچی میں احتجاجی سیاست کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔
سینئر صحافی سفیر کھوکھر کے مطابق نہال ہاشمی کے گورنر بننے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) سندھ متحرک ہو گئی ہے۔ نہال ہاشمی کے گورنر بننے کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، جو اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ (ن) لیگ سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ اپنی جماعت کو متحرک کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔













