مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی گیس تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر درآمدی معیشتوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے گاڑی مالکان کو متبادل راستہ دکھا دیا
عالمی مارکیٹ میں امریکی خام تیل قریباً 98 ڈالر فی بیرل جبکہ برطانوی برینٹ خام تیل 108 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا ہے۔ حالیہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے اور صرف چند دنوں میں قریباً 10 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رواں ماہ 15 مارچ کو جب پیٹرول کی قیمتوں کو برقرار رکھا گیا تھا اس وقت امریکی خام تیل 96 ڈالر کا تھا جو کہ اب 98 ڈالر کا ہوگیا ہے، جبکہ برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت 101 ڈالر تھی جو کہ اب 108 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔
اس اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے قیمتوں کو برقرار رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے، تاہم موجودہ عالمی رجحان اس کے برعکس اشارہ دے رہا ہے۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کا طریقہ کار بھی تبدیل کردیا ہے، جس کے تحت اب ہر 15 دن کے بجائے ہر 7 دن بعد قیمتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ ردوبدل 22 مارچ کو متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں مسلسل اضافے کے پیش نظر عید کے موقع پر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ اس کے برعکس قیمتوں میں اضافے کا خدشہ زیادہ واضح ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت کا ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اسی طرح بلند رہیں تو نہ صرف پیٹرول مہنگا ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں بھی مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس سے عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔














