عالمی ادارہ صحت (WHO) نے تصدیق کی ہے کہ سوڈان میں عید کے دن ایک اہم اسپتال پر مبینہ ڈرون حملے میں کم از کم 64 افراد ہلاک اور 89 زخمی ہو گئے، جس کے بعد متاثرہ اسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا اور ہزاروں افراد کو طبی سہولیات سے محروم ہونا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی وزارتِ اسلامی امور کا سوڈان میں ڈیڑھ لاکھ روزہ داروں کے لیے افطار پروگرام کا آغاز
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سوڈان کے مغربی شہر الدعین میں واقع الدعین ٹیچنگ اسپتال پر حملہ عید کے روز کیا گیا، جس میں ہلاک ہونے والوں میں 13 بچے، 2 نرسیں اور ایک ڈاکٹر شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ حملہ اس حد تک شدید تھا کہ اسپتال اب مکمل طور پر کام کرنے کے قابل نہیں رہا۔
BREAKING:
The Muslim Brotherhood-aligned Sudanese Armed Forces killed 64 civilians in a drone strike on a hospital in Al-Daein in East Darfur yesterday pic.twitter.com/Df8OwwcOQ8
— Visegrád 24 (@visegrad24) March 22, 2026
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبرییسس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ بہت خون بہہ چکا ہے اور فریقین سے اپیل کی کہ وہ جنگ بندی کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کی سہولیات کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
ادھر سوڈان کی نیم فوجی فورس ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ فوج کے ڈرون کے ذریعے کیا گیا، تاہم سوڈانی فوج نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتی ہے اور اس حملے میں اس کا کوئی کردار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سوڈان ڈرون حملے میں 28 افراد ہلاک، خانہ جنگی شدت اختیار کر گئی
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق الدعین اسپتال کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس میں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ اور اہم طبی آلات کی تباہی بھی شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد علاج کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔
سوڈان میں اپریل 2023 سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک 150,000 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 12 ملین بے گھر ہو چکے ہیں، جسے اقوام متحدہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران قرار دے چکی ہے۔
A strike on El-Daein Teaching Hospital in East Darfur, Sudan, killed at least 64 people and injured 89 others, including 13 children, the World Health Organization (WHO) confirmed on Saturday, marking one of the deadliest incidents targeting healthcare facilities in the country’s… pic.twitter.com/chXnvg6sRo
— Africalix (@Africa_lix) March 22, 2026
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس جنگ کے دوران اب تک 213 حملوں میں 2,036 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں صحت کے مراکز کو بار بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق مشرقی دارفور کا یہ علاقہ جنگ کا نیا محاذ بن چکا ہے، جہاں تقریباً روزانہ ڈرون حملے ہو رہے ہیں، جبکہ عید الفطر کے موقع پر بھی سوڈان میں عام حالات کے برعکس سادہ اور محدود تقریبات دیکھنے میں آئیں۔













