پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھنے والا بھارت منظر سے غائب، پاکستان کے عالمی سطح پر چرچے

منگل 24 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کی مؤثر سفارتی حکمت عملی کے چرچے جہاں دنیا بھر میں ہو رہے ہیں، وہیں بھارت میں اس حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی بھی کی جارہی ہے کہ جس پاکستان کو آپ عالمی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے وہ تو اپنی نمایاں حیثیت سے کے طور پر خود کو منوا رہا ہے۔

معروف بھارتی جریدے دی وائر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی کی تعریف کی جارہی اور بھارت کے لیے اسے دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے، اور مودی سرکار کے دعوؤں کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔

مودی کی پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی کوشش ناکام

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی نے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد میں اس چیز کو ترجیح پر رکھا کہ پاکستان کو غیر متعلق کرنا ہے، لیکن امریکا ایران بحران کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے بجائے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ترجیح دی، جس سے بھارتی سرکار کی پاکستان کے خلاف تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔

مودی کے لیے ذاتی سفارتی نقصان

جب عالمی سطح پر یہ تاثر ہے کہ پاکستان کشیدگی روکنے میں مددگار ہے اور بھارت آبنائے ہرمز کی بندش اور ٹیرف کے بارے میں فکر مند ہے، تو یہ مودی کے لیے ذاتی اور سیاسی طور پر نقصان دہ ہے۔ بھارت کی خطے میں غیر موجودگی اور پاکستان کا بیک چینل کے طور پر ابھرنا مودی کی عالمی قیادت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔

بھارت کی ساکھ اور علاقائی اثرورسوخ میں کمی

جب پاکستان امریکا اور ایران دونوں کے اعتماد کا حامل ہو کر حساس پیغامات منتقل کررہا ہے، تو بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری کمزور دکھائی دیتی ہے۔

امریکا بھارت شراکت داری کی کمزوری

مودی کی ذاتی سطح کی قربت کے باوجود امریکا نے بھارت کو بائی پاس کرکے پاکستان کو ترجیح دی، جو بھارت کے خطے میں اثرورسوخ پر عدم اعتماد کا واضح اشارہ ہے۔ بھارت کو ایک چھوٹے کھلاڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ ایک معتبر اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنے فوجی اور سیاسی تعلقات کا فائدہ اٹھا کر اعلیٰ سطحی رسائی حاصل کی، جس سے اسے اس بحران میں معتبر سفارتی ثالث کے طور پر پیش کیا گیا۔ بھارت کی چابہار پورٹ میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود اس کی اسٹریٹجک پوزیشن متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ترکیہ اور مصر کے درمیان بیک چینل رابطہ کاری نے بھارت کو خطے کی موجودہ صورتحال سے بالک باہر کردیا، مودی کی اسرائیل نواز پالیسی اور پاکستان مخالف رائے نے بھارت کے مفادات کو نقصان پہنچایا اور خطے میں اس کی قیادت کمزور ہوئی۔

ماہرین کے مطابق یہ مودی کی خارجہ پالیسی کے مودی ڈاکٹرائن کی ناکامی ہے، جس میں ذاتی شہرت، عالمی اعزازات اور میڈیا دکھاوے کو ترجیح دی گئی، جبکہ حقیقی جغرافیائی سیاسی مسائل پر توجہ کم دی گئی۔ جبکہ پاکستان نے اس خلا کو پر کرکے خود کو امریکا اور ایران کے درمیان کلیدی ثالث کے طور پر پیش کیا، جبکہ بھارت بائی پاس ہو گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب، چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت میں غیر معمولی تیزی

عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان دشمنوں سے ملاقاتیں، عابد شیر علی نے سوالات اٹھا دیے

پیٹرول کی قیمت میں کسی بڑے اضافے کا ارادہ نہیں، حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی

حکومت کا عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے اثرات سے بچانے کے لیے اہم اقدام

ملکہ الزبتھ کا عالیشان سفارتی اصول جس کے صدر ٹرمپ بھی معترف

ویڈیو

ٹرمپ کی چیخیں، امریکا لیٹ گیا، اسلام آباد میں اہم بیٹھک، مذاکرات خفیہ کیوں؟

اورکزئی کی رابعہ بصری جو حصول علم کے لیے میلوں پیدل سفر کرتی ہیں

گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستان کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا عزم

کالم / تجزیہ

کرکٹ ورلڈ کپ 92‘ فتح کا 34واں سال

کیا عارضی جنگ بندی مستقل ہو سکتی ہے؟

جالب نامہ