بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے بدھ کے روز دارالحکومت ڈھاکہ میں توانائی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی۔
یہ اہم اجلاس صبح کے وقت بنگلہ دیش سیکریٹریٹ کے کابینہ ڈویژن میں وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ ڈپٹی پریس سیکریٹری زاہد الاسلام رونی نے تصدیق کی کہ وزیراعظم نے توانائی کی صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات کے عنوان سے اجلاس کی صدارت کی۔
سرکاری سرگرمیاں اور اجلاس سے قبل اقدامات
حکام کے مطابق وزیراعظم صبح تقریباً 9:02 بجے سیکریٹریٹ پہنچے اور مختلف سرکاری امور نمٹائے۔ اس سے قبل انہوں نے یوم آزادی اور قومی دن کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا بھی کیا۔
بعد ازاں انہوں نے توانائی اور بجلی کے شعبے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
عالمی کشیدگی کے اثرات
حکومتی ذرائع کے مطابق نئی انتظامیہ کو توانائی کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ہے۔ اس کشیدگی نے عالمی ایندھن کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی فراہمی اور ضروری اشیاء کی دستیابی میں ممکنہ رکاوٹوں پر بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
حکومتی تیاری اور اقدامات
اجلاس میں حکومت کی مجموعی تیاری کا جائزہ لیا گیا اور مندرجہ ذیل امور پر غور کیا گیا
ایندھن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا، بجلی کی پیداوار میں استحکام، معیشت کو ممکنہ جھٹکوں سے بچانا۔
حکام کے مطابق اجلاس میں ایسے اقدامات پر بھی غور کیا گیا جن سے توانائی کے شعبے اور مجموعی معیشت میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔














